23 ستمبر 2018
تازہ ترین
 42ہزار سال سے برف میں منجمد کیچوے زندہ

 سائنس دانوں نے دو ایسے کیچوے نما کیڑوں کو زندہ کر دکھایا  جو 42 ہزار برس سے مکمل طور پر برف میں ڈھکے ہوئے ایک علاقے سے ملے تھے۔ اس اہم کامیابی سے جان داروں اور بالخصوص انسانوں کو وقتی طور پر منجمد کرکے دوبارہ زندہ کرنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ کیڑے اتنے قدیم ہیں کہ اس زمانے میں بڑے بالوں والے ہاتھی (وولی میمتھ) موجود تھے جو اب ناپید ہوچکے ہیں۔ ماسکو میں انسٹی ٹیوٹ آف فزیکو کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل پرابلمز آف سوئل سائنسز کے ماہرین نے ان دونوں کیڑوں کو تجربہ گاہ کی پیٹری ڈش میں زندہ کر کے دکھایا ہے۔ روسی ماہرین نے امریکی جامعہ پرنسٹن یونیورسٹی کے تعاون سے ہزاروں برس سے برف میں جمے 300 کیڑوں کا مطالعہ کیا، جن میں سے زندہ کرنے کے لئے موزوں ترین امیدوار کیڑوں کا انتخاب کیا گیا۔ بہت تحقیق کے بعد ان میں سے چھان پھٹک کرکے صرف دو کیڑوں کو ہی منتخب کیا گیا۔ ان میں سے ایک کیچوا 2015 میں مستقل برف میں ڈھکے خطے کے الازیا دریا کے پاس سے ملا ہے اور وہ 41 ہزار 700 سال پرانا ہے ، جبکہ دوسرا کیڑا 2002 میں کسی گلہری کی کھوہ کے اندر سے ملا ، جو 32 ہزار سال قدیم ہے۔ دونوں کیڑے بظاہر مردہ دکھائی دے رہے تھے کیونکہ وہ برف میں جم ہوچکے تھے۔  واضح رہے کہ روسی ماہرین بالوں والے قدیم ہاتھی  میمتھ کو بھی دوبارہ زندہ کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں اور جراسک پارک فلم کی طرح وہ ہزاروں برس سے برف میں ڈھکے علاقوں سے ملنے والے میمتھ میں درست ڈی این اے تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں اگر پورا ڈی این مل جاتا ہے تو اسے آج کے ہاتھیوں میں داخل کرکے اس سے میمتھ کو دوبارہ کلون کیا جاسکتا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟