15 نومبر 2018
4ہزار سال پرانے گمشدہ شہر کی دریافت

چین میں دریائے توی کے قریب 4ہزار سال پرانے شہر گمشدہ کا سراغ لگالیا گیا ۔ ماہرین آثار قدیمہ  نے کہا ہے کہ اس شہر کی حدود میں ایک ایسا بلند و بالا اہرام بھی تھا ، جس کی اونچائی تقریباً 230فٹ تھی۔ اہرام کے اندر سے بہت سے ایسے برتن اور گڑھے بھی ملے ہیں جو انسانی کھوپڑیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اس اہرام کو پختہ بنیادوں پر استوار رکھنے کیلئے 2عظیم الشان اور انتہائی چوڑی فصیلیں بھی بنائی گئی تھیں۔ پورے شہر کا رقبہ 988ایکڑ پر محیط تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ جگہ یقینی طور پر کوئی قربان گاہ یا عقوبت خانہ ہوسکتی ہے۔ اتنی اہم تحقیق سامنے آنے کے بعد چینی ماہرین نے کہا کہ نئی تحقیق سے ہمیں چین کی انتہائی اولین تہذیب و ثقافت کو سمجھنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ اور ہم نئے زاویے اور جہت سے یہاں کی تہذیب کو سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ جس زمانے کی باتیں ماہرین کر رہے ہیں وہ کم و بیش تانبے کے زمانے کے نام سے تاریخ میں جانا جاتا ہے۔ جہاں سے اس شہر کی زمین نہ تو بہت زیادہ اونچی پہاڑیوں پر مشتمل تھی اور نہ ہی بالکل مسطح میدانوں پر ۔ ماہرین نے نو دریافت شہر یا شہر گمشدہ کا سراغ لگانے کے بعد بتایا کہ اس شہر کو زمانہ قدیم میں شیما ئوکہا جاتا تھا۔ تاریخی اعتبار سے شیمائو عہد 2300 سے1800قبل مسیح تک کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟