20 ستمبر 2018
تازہ ترین
 18ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ  

 درآمدات میں اضافے نے مالی سال 2017-18 میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ 18ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا جو سال 2016-17 کے مقابلے میں 5ارب 37کروڑ 30 لاکھ ڈالر یا42.57 فیصد زیادہ قومی پیداوار جی ڈی پی کا 5.7فیصد ہے جو اس سے پہلے مالی سال میں جی ڈی پی کا 4.1 فیصد تھا۔ سٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق 2017-18 میں کرنٹ کائونٹ  خسارہ 17 ارب 99 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا جو سال 2016-17 میں 12ارب 62کروڑ10لاکھ ڈالر تھا، جولائی تا ستمبر کرنٹ اکائونٹ خسارہ  3 ارب 54 کروڑ 60لاکھ ڈالر، اکتوبر تا دسمبر بڑھ کر 4ارب 37کروڑ 40 لاکھ ڈالر، جولائی تا مارچ نسبتاً معمولی کمی سے 4 ارب 27 کروڑ 60 لاکھ ڈالر اور اپریل تا جون کی سہ ماہی میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھ کر 5ارب 79کروڑ 80لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ جون میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ 1ارب84کروڑ جبکہ مئی میں 2 ارب1کروڑ10لاکھ ڈالر خسارے میں رہا، اس مدت میں کرنٹ اکائونٹ خسارے میں سب سے بڑا حصہ اشیا و خدمات کی تجارت میں خسارے کا رہا جس کی وجہ برآمدات کے معاملے میں درآمدات کا نمایاں کردار رہا، اگرچہ روپے کی قدر میں پے درپے کئی بار کمی کے بعد ایکسپورٹ میں بحالی شروع ہوئی اور اشیا کی برآمدات میں 13 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا جبکہ اشیا و خدمات کی ایکسپورٹ میں 12.6فیصد کا اضافہ ہوا تاہم درآمدات پر کنٹرول کی تمام کوششیں رائیگاں ثابت ہوئیں۔  


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟