23 ستمبر 2018
تازہ ترین
14ہزار سال قدیم روٹی اور تنور دریافت

 اردن کے صحرا سے دنیا کا سب سے قدیم روٹی کا ٹکڑا اور تنور دریافت ہوا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اردن کے عظیم سیاہ صحرا میں آثار قدیمہ کی ایک سائٹ کی کھدائی کے دوران 14ہزار سال قبل کی قدیم روٹی دریافت ہوئی ، جس کی شکل موجودہ دور کی  ڈبل روٹی جیسی ہے، ساتھ ہی دو بڑے تنور دریافت ہوئے ہیں۔ اس دور میں لوگ جنگلی گندم اور جو کے آٹے سے روٹی تیار کرتے تھے جس میں مخصوص پودوں کی جڑیں اور پانی ملا کر آٹا بنایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں تیار کی گئی روٹی آج کی ڈبل روٹی کی طرح چوکور ہوا کرتی تھیں جس کا ذائقہ مختلف اجناس جیسا ہوا کرتا تھا ، جسے بھنے ہوئے گوشت میں لپیٹ کر یا سینڈ وچ کے طور پر کھایا جاتا ہوگا اس مقام سے دو ایسی جگہیں بھی دریافت ہوئیں، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے یہاں روٹی پکائی جاتی ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق اردن کے سیاہ صحرا کے مقام سے ملنے والے یہ شواہد سب سے قدیم ہیں کیوں کہ اس سے قبل ملنے والے شواہد 5 ہزار سال پرانے تھے جس کے مطابق انسان نے سب سے پہلے روٹی ترکی میں 9 ہزار سال پہلے بنائی تھی لیکن سیاہ صحرا سے ملنے والے شواہد نے پرانی تحقیق کو غلط ثابت کر دیا۔ ماہرین کے مطابق اس دریافت سے ثابت ہوا  کہ قدیم دور کے انسان کے پاس بھی روٹی پکانے کے وسائل اور ذرائع موجود تھے، جبکہ ان کے پاس گوشت بھی تھا جسے وہ پکانا بھی جاتے تھے، اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ  پتھر کے دور میں بھی انسان باقاعدہ  خوراک  سے آشنا تھے اور درندوں کی طرح چیر پھاڑ کر اپنا پیٹ نہیں بھرا کرتے تھے بلکہ کھانا بنانے کے فن سے روشناس تھے۔ اس دریافت میں دو ایسے مقامات کی بھی نشاندہی ہوئی ہے جہاں سے روٹی کا چورا بھی ملا ہے اور یہ مقامات موجودہ دور کے تنور کی طرح ہی تھے، جہاں آگ بھڑکا کر پورے گائوں کے لئے روٹی تیار کی جاسکتی تھی۔ اس تحقیق سے انسانی تہذیب اور روایات سے متعلق مزید انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟