23 فروری 2020
تازہ ترین
افغانستان میں قیام امن کیلئے پہلی کانفرنس کامری میں آغاز

افغانستان میں قیام امن کیلئے پہلی کانفرنس کامری میں آغاز

افغانستان میں قیام امن کے لیے “لاہور پراسیس” سلسلے کی پہلی کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے۔بھوربن مری میں جاری اس کانفرنس میں افغانستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما اور نمائندہ وفود شریک ہیں۔ ان میں 18 سیاسی جماعتیں اور ان کے 45 مندوبین شامل ہیں کانفرنس میں شریک نمایاں شخصیات میں سابق افغان وزیراعظم و حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی افغانستان و سابق گورنر استاد عطا محمد نور، حزب وحدت مردم افغانستان کے استاد محمد محقق، سابق وزیر دفاع وحید اللہ سبوران، سابق گورنر حاجی عزیز الدین، افغان امن جرگہ کے سربراہ محمد کریم خلیل، قومی اسلامی فرنٹ کے سربراہ پیر سید حامد گیلانی شامل ہیں۔ افغانستان کے متعدد سینیٹرز اور ارکان اسمبلی بھی کانفرنس کا حصہ ہیں۔ گلبدین حکمت یار نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے شکر گزار ہیں کہ تمام افغان دھڑوں کو پاکستان میں یکجا کیا، کچھ طاقتیں افغانستان کو استعمال کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں اور افغانستان میں امن نہیں چاہتیں، افغان عوام گزشتہ چالیس سال سے جنگ کی آگ میں جل رہے ہیں، یہ جنگیں افغان عوام پر مسلط کی گئی ہیں۔ گلبدین نے کہا کہ افغان جنگ سے جتنا نقصان افغانستان کو پہنچا اس سے زیادہ پاکستان کا ہوا ہے، یہ جنگ افغانستان کی جنگ نہیں بلکہ پاکستان کے بقا کی جنگ بھی ہے، پاکستان اور افغانستان مل دونوں افغان جنگ کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ استاد عطا محمد نور نے کہا کہ اچھا ہوتا یہ کانفرنس پاک، افغان، طالبان سہہ فریقی کانفرنس ہوتی، افغانستان پاکستان کو امن کیلئے اپنی کاوشیں کرنا ہوں گی، ایران اور وسط ایشیاء کا افغان امن کیلئے کلیدی کردار ہے، افغانستان کے ہمسایہ ممالک میں امن نہیں ہوگا تو نقصان ہوگا، داعش کی افغانستان میں موجودگی تشویش کا باعث ہے جب کہ افغان طالبان میز پر لچک کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ لاہور پراسیس میں افغان سیکیورٹی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور عوامی رابطوں اور مستقبل کے لیے تجاویز کا تبادلہ خیال ہوگا جبکہ مستقبل کی حکومتوں کے درمیان اعتماد سازی کی فضاء قائم کرنے میں مدد ملے گی اور افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے حوالے سے بات ہوگی۔ کانفرنس میں افغانستان کے لیے تجارت، روابط، صحت اور دیگر شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کا موقع بھی ملے گا۔ مستقبل میں لاہور پراسیس میں طالبان کی شمولیت کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟