20 جولائی 2019
تازہ ترین
اسد عمر کا بجٹ پر اظہار افسوس،اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر عائد ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ

اسد عمر کا بجٹ پر اظہار افسوس،اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر عائد ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ

 قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوران سابق وزیر خزانہ اسد عمر اپنی ہی حکومت کے پیش کردہ بجٹ پر پھٹ پڑے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر عائد ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔ قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسد عمر نے کہاکہ اگرپکڑ دھکڑ سیاسی انتقام کے لیے ہو رہی ہے تو ملک کے لیے اچھی نہیں، سزا اور جزا کا نظام اللہ کا ہے، ناچیز بندوں کا اس سے تعلق نہیں، جمہوریت قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔  معیشت میں کئی مسائل ہیں جو برسوں سے چلے آرہے ہیں، ن لیگ کی حکومت والے معیشت کی مہلک بیماری چھوڑ کر گئے تھے، حکومتی کوششوں سے چند ماہ میں کرنٹ اکائونٹ خسار ے میں 70 فیصد کمی آئی، برآمدات بڑھانے تک بین الاقوامی طاقتوں پر انحصار ختم نہیں ہوگا، نئی سرمایہ کاری لانے والوں کو 5 سال کے لیے ٹیکس سے استثنا دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ  فوری طور پر جی آئی ڈی سی ختم کرکے یوریا کی بوری پر 400 روپے ختم کرائیں، چینی پر ٹیکس بڑھایا گیا اس پر ورکنگ کرنی چاہیے، چینی پر ٹیکس مناسب نہیں اسے واپس لینا چاہیے، چینی، خوردنی تیل اور گھی پر عائد ٹیکس واپس لینا چاہیے، محنت کشوں کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسد عمر نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیاکہ بجٹ میں پینشن 10 سے 15 فیصد اور بڑھائی جائے، محنت کشوں کی ای اوبی آئی میں رجسٹریشن کرائی جائے جب کہ گھریلوملازمین اور بھٹہ مزدوروں کی بھی رجسٹریشن کرائی جانی چاہیے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟