25 اگست 2019
تازہ ترین
جعلی اکائونٹس کے ذریعے ٹرانزیکشنز کرنا شدید جرم ہے،چیف جسٹس

جعلی اکائونٹس کے ذریعے ٹرانزیکشنز کرنا شدید جرم ہے،چیف جسٹس

 چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ جعلی اکائونٹس کے ذریعے ٹرانزیکشنز کرنا بڑا شدید جرم ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سینئر اسسٹنٹ بینک محمد انور کے جعلی اکائونٹس کھلوانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنا پر معاملہ نمٹا دیا۔ عدالت نے کہا کہ ایک کیس میں ٹرائل کورٹ نے ملزم محمد انور ایوب کو 3 سال سزا اور 8 لاکھ جرمانہ کیا، دوسرے کیس میں ٹرائل کورٹ نے ملزم محمد انور ایوب کو 8 سال کی سزا دی اور ہائیکورٹ نے دونوں کیسز میں سزا 3 سال کردی۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ بینک والوں کی شمولیت کے بغیر جعلی اکائونٹس نہیں کھل سکتے، ایک لاکھ کا اکائونٹ کھول کر اسے 9 لاکھ بنا دیا، اکائونٹ بغیر تصدیق کے تو نہیں کھل سکتے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ملزم کو تین سال قید تو بہت کم دی گئی ہے، جعلی اکائونٹس کے ذریعے ٹرانزیکشنز کرنا تو بڑا شدید جرم ہے، جتنے بھی اکاونٹ کھلے سب کے اوپننگ فارم پر ملزم کے دستخط تھے، جتنی بھی ٹرانزیکشنز ہوئیں ملزم ان میں ملوث تھا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کرمنل کیسز سے متعلق بھی ریمارکس دیے اور کہا کہ کرمنل کیسز تقریباً اب ختم ہوگئے ہیں، انشائ اللہ اگلے چند ہفتوں میں صفر رہ جائیں گے، اس ہفتے کے بعد صرف 100 اپیلیں رہ جائیں گی، تمام کیسز کی ایک ساتھ تیاری کرلیں، کیسز ختم ہونے والے ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟