16 اکتوبر 2019
تازہ ترین
بلاول بھٹو اور فضل الرحمان  کا بجٹ منظور نہ ہونے دینے پر اتفاق

بلاول بھٹو اور فضل الرحمان  کا بجٹ منظور نہ ہونے دینے پر اتفاق

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان  اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بجٹ منظور نہ ہونے دینے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ آئی ایم ایف کے نمائندوں نے بنایا ہے جو عوام اور ملک دشمن ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں اور بجٹ کے حوالے سے بات کی گئی جب کہ حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان  کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کیا، پاکستان کی تاریخ میں اتنے قرضے نہیں لیے جتنے اس حکومت نے لے لئے، ڈالرکی قیمت 157 چلی گئی ہے، غریب شہری  آج  بازار سے راشن خریدنے کے قابل نہیں رہا، موجودہ حکومت کا خاتمہ ہی موجودہ صورتحال سے نجات کا ذریعہ ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ موجودہ بجٹ ملک اور غریب دشمن ہے جسے براہ راست آئی ایم ایف نے یہاں آ کر بنایا ہے، اور ہمیں معاشی غلام بنا دیا گیا،  اس بجٹ کے بعد عوام راشن بھی نہیں خرید کے قابل نہیں رہے گا، ایک جعلی اور دھاندلی شدہ الیکشن پر ہمارا پہلے دن جو موقف تھا آج بھی وہی ہے، یہ لوگ ملک پرحکومت کرنے کوئی جوازنہیں رکھتے، آج ملاقات میں اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک اور اے پی سی پر مشاورت ہوئی، جون کے آخری عشرے میں اے پی سی کریں گے اوراسی کے فیصلوں کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل طے کریں گے اور ایک متفقہ بیانیہ لےکرپارٹیاں میدان میں آئیں گی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آج کٹھ پتلیوں کی حکومت میں ہمارے سیاسی و معاشی نقصان ہورہے ہیں، ہم مل کر قوم کو اس نقصان سے بچائیں گے، موجودہ بجٹ ایک عالمی ادارے کے حکم پر بنا ہے، دھاندلی زدہ حکومت دھاندلی بجٹ پاس کرناچاہتے ہیں لیکن ہماری کوشش ہے کہ عوام دشمن بجٹ پاس نہ ہو اور پورا یقین ہے عوام کو اس بجٹ سے بچا سکیں گے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اور ہمارے موقف میں تھوڑا سا فرق ہے مولانا صاحب کہتے ہیں حکومت جائے، ہم کہتے ہیں پارلیمان اپنی مدت پوری کرے، حکومت مدت پورا کرے نہ کرے پارلیمان کو مدت پوری کرنا چاہئے، پیپلز پارٹی ہمیشہ سے کہتی آئی ہے نظام چلتا، تاہم جو مؤقف اے پی سی کا ہو گا ساری جماعتوں کا مؤقف وہی ہوگا۔  


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟