20 ستمبر 2019
تازہ ترین
پنجاب کے نئے مالی سال  کا بجٹ  پیش کردیا گیا

پنجاب کے نئے مالی سال  کا بجٹ  پیش کردیا گیا

پنجاب کے نئے مالی سال  20-2019 کا بجٹ  پیش کردیا گیا ہے۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وزیرخزانہ پنجاب ہاشم جوان بخت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بجٹ کا کل حجم 20 کھرب 26 ارب روپے کے بجائے 23 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔  پنجاب کے نئے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 47 فیصد اضافے کے ساتھ 350 ارب روپے مختص کیے گئے اور غیر ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 اعشاریہ 60 فیصد اضافہ کے ساتھ 12کھرب 98 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ وزیرخزانہ پنجاب کے مطابق تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔تنخواہوں کی مد میں 337 ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوں گے جب کہ پنشن پر 244 ارب 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پنجاب تعلیمی بجٹ وزیرخزانہ پنجاب کے مطابق شعبہ تعلیم میں ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ کے لیے  382 ارب 90 کروڑ روپے رکھے گئے جس میں پنجاب بھر میں 64 کالجز کی تکمیل کے لیے 2 ارب 10 کروڑ مختص کیے گئے۔ پنجاب تعلیمی بجٹ میں بہاولپور میں اعلی معیار کی چلدڑن لائبریری کا قیام اور ننکانہ صاحب میں بابا گرونانک یونیورسٹی کا قیام بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ اسکول کونسلز کے لیے 12ارب 90 کروڑ روپے جب کہ مفت درسی کتب کی فراہمی کے لیے 2 ارب 84 کروڑ مختص کیے گئے ہیں۔ اسکول نہ جانے والے بچوں کے لیے انصاف اسکول پروگرام کے تحت 1ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے جب کہ جھنگ، اوکاڑہ، ساہیوال اور ناروال میں نئی قائم کردہ یونیورسٹیوں کے لیے 40 کروڑ روپے کا اجراء کیا۔ وزیرخزانہ پنجاب نے شعبہ صحت کا مجموعی بجٹ 308 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیا جب کہ  زرعی شعبہ کے لیے 24 فیصد اضافے سے 123 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے۔ وزیرخزانہ پنجاب نے عوامی تحفظ اور امن و امان پر بھی 181 ارب 60 کروڑ خرچ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ وزیرخزانہ پنجاب کے مطابق ریونیو اتھارٹی 166 ارب 60 کروڑ روپے اکھٹے کرے گی جب کہ بورڈ آف ریونیو 81 ارب 20 کروڑ روپے اکھٹے کرے گا۔ پنجاب کے نئے بجٹ میں میگا پراجیکٹس، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کرنے کی تجویز شامل ہے جب کہ محکمہ خزانہ پنجاب نے نئے بجٹ کو ٹیکس فری اور 200 ارب کا سرپلس قرار دیا ہے۔ پنجاب کے نئے بجٹ میں صوبائی مالیاتی کمیشن کے تحت 437 ارب جاری کیے جائیں گے جب کہ آئندہ مالی سال میں پنجاب میں ٹیکس اور نان ٹیکس آمدنی 388 ارب 40کروڑ روپے ہوگی۔ وزیرخزانہ پنجاب نے بجٹ پیش کرتے ہوئے جاری اخراجات پر سال بھر میں 12 کھرب 98 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرنے کی تجویز بھی دی۔ سندھ کا بجٹ ذرائع کے مطابق سندھ کا بجٹ 12 کھرب 30 ارب روپے سے زائد ہے، بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبے کا بجٹ 16 ارب روپے بچت کا بجٹ ہوگا جس میں 12 کھرب 14 ارب روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔  دستاویز کے مطابق 835 ارب روپے وفاق سے سندھ کو ملیں گے، 355 ارب روپے سے زائد صوبائی وصولیوں کا ہدف مقرر کیا گیا، 283 ارب روپے ترقیاتی بجٹ کے لئے مختص کئے جائیں گے۔ کراچی میں 29 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے جائیں گے اور  شہر کے لیے 40 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص ہوں گے۔  بجٹ دستاویز کے مطابق کے فور منصوبے کے لیے 25 ارب 55 کروڑ روپے رکھے جائیں گے، ایس تھری منصوبے کے لیے 2 ارب روپے، ایڈز کنٹرول پروگرم ، ہیپا ٹائٹس، ٹی بی اور ملیریا کنٹرول کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق بلدیاتی اداروں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 26 ارب 86 کروڑ روپے، محکمہ زراعت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 8 ارب 40 کروڑ، محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کے لیے دو ارب روپے اور محکمہ صحت کے اسپیشل پروجیکٹس کےلیے 13 ارب پچاس کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق گرین پاکستان منصوبے کے لیے ایک ارب روپے، سندھ سے غربت کے خاتمے کے حوالے سے 12 ارب 30 کروڑ، ٹی پی تھری منصوبے کے لیے 5 ارب روپے، واٹر سپلائی، ڈرینج اور کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے 22 ارب 95 کروڑ مختص کیے گئے ہیں۔   


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟