01 دسمبر 2021
تازہ ترین
چٹکی بجانا انسانی جسم کی تیز رفتار ترین صلاحیت

چٹکی بجانا انسانی جسم کی تیز رفتار ترین صلاحیت

جارجیاٜ چٹکی بجاتے ہی مسئلہ حل ہونے کا محاورہ ہم اکثر سنتے ہیں لیکن سائنسی تحقیق کی رو سے انسانی جسم سے انجام دیا جانے والا یہ سب سے تیز رفتار عمل بھی ہے۔ جارجیا ٹیک کے طالبعلم راگھیو اچاریہ اور دیگر نے یہ تحقیق کی ہے جس کا احوال رائل سوسائٹی انٹرفیس کے جرنل میں شائع کیا ہے۔ اس تحقیق میں جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے چٹکی بجانے کے عمل کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور اس کی طبیعیات کو نئے سرے سے کھوجا ہے۔ تحقیق کے مطابق چٹکی بجانے کے عمل کو یوں سمجھیے کہ اس کا اسراع ٟ ایسلریشنٞ اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ چٹکی کا انگوٹھا صرف سات ملی سیکنڈ میں ہتھیلی کو چھولیتا ہے جو پلک جھپکانے سے بھی تیزعمل ہے۔ ماہرین کے مطابق انگلی اور انگوٹھے کے بیرونی جلد کی درمیانے درجے کی رگڑ ٟ فرکشنٞ سے چٹکی کی آواز پیدا ہوتی ہے لیکن اس عمل میں گھمائو کا اسراع خود بیس بال بلے باز سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس مشاہدے سے مصنوعی ہاتھوں اور بازوئوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس طرح وہ انسانی ہاتھوں سے مزید قریب ہوسکیں گے۔ تحقیق میں شامل سائنس داں سعد بھملا نے بتایا کہ یہ تحقیق روزمرہ کی سائنس اور انسانی تجسس کو بھی ظاہر کرتی ہے جس سے دریافت کے نئے راستے کھلتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق چٹکی بجانے کا عمل بہت ہی تیز اور حیران کن ہے جس میں انسان توانائی جمع کرکے فوری طور پر ریلیز کرتا ہے اور یوں چٹکی بجانے کی آواز آتی ہے۔ سائنس دانوں نے انتہائی تیز عکس نگاری، خودکار امیج پروسیسنگ، ڈائنامک فورس سینسر اور دیگر ٹیکنالوجی سے چٹکی بجانے کے عمل کو دیکھا اور سمجھا۔ اس کے علاوہ انگلیوں کی رگڑ کو سمجھنے کے لیے ان پر پلاسٹک اور دھات وغیرہ بھی لگائی گئی۔ ماہرین نے نوٹ کیا کہ عام حالات میں چٹکی بجانے کے عمل میں روٹیشنل ولاسٹی 7800ڈگری فی سیکنڈ اور روٹیشنل ایسلریشن 16لاکھ ڈگری فی مربع سیکنڈ ہوتا ہے۔ یعنی صرف سات ملی سیکنڈ میں ان انگوٹھا پھسل کر ہتھیلی پر جا لگتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس عمل سے مزید تحقیق اور ٹیکنالوجی کی راہ ہموار ہوگی۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟