01 دسمبر 2021
تازہ ترین
شرح سود میں اضافہ صنعت کیلئے پھانسی کا پھنداٜ مفتاح اسماعیل

شرح سود میں اضافہ صنعت کیلئے پھانسی کا پھنداٜ مفتاح اسماعیل

اسلام آبادٜ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما مفتاح اسماعیل نے شرح سود میں اضافے کو ملکی صنعت کے لیے پھانسی کا ایک اور پھندا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ مہنگائی شرح سود میں کمی کی وجہ سے نہیں۔ عمران نیازی حکومت پہلے بھی شرح سود بڑھا کر ملکی معیشت کو ریورس گئیر لگا چکی ہے ، ایک بار پھر تیزی سے شرح سود بڑھائی جارہی ہے۔ سٹیٹ بینک کی طرف سے بنیادی شرح سود میں اضافے پر رد عمل دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما کا کہنا تھا کہ شرح سود کے بڑھنے سے صرف صنعتی پیداوار میں کمی ہوگی اور حکومت کے اخراجات بڑھیں گے۔ ڈیڑھ فیصد سود بڑھانے سے مہنگائی کم نہیں ہوگی، نجی شعبے کو مزید مشکلات اور سست روی کا سامنا کرنا پڑے گا، بنیادی شرح سود سوا سات سے پونے 9فیصد کرنے سے حکومت کی سود کی ادائیگی میں 400 ارب سالانہ کا مزید اضافہ ہو گا، مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی روکنے کے لئے دو سال پہلے بھی یہ کام حکومت نے کیا تھا، اس اقدام سے پہلے بھی مہنگائی رُکی نہ روپے کی قدر میں کمی ہوئی بلکہ معیشت مزید کساد بازاری کی نظر ہوگئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران نیازی حکومت پہلے بھی شرح سود بڑھا کر ملکی معیشت کو ریورس گئیر لگا چکی ہے ، ایک بار پھر تیزی سے شرح سود بڑھائی جارہی ہے، پہلے بھی معیشت سست روی کاشکار ہوئی تھی، پھر ہوگی، شرح سودمیں اتنا تیزی سے اضافہ کرکے ملک میں آگ لگاتی ہوئی مہنگائی پر قابو کیسے پایا جا سکتا ہے؟، اس اقدام سے مہنگائی پر قابو پایا جائے گا نہ ہی روپے کی گرتی ہوئی قیمت کو روکا جا سکے گا، اکتوبر میں تاریخ کا سب سے بلند 15ارب ڈالر سے زائد کرنٹ اکائو نٹ خسارہ ہونے جارہا ہے، جب 75 ارب ڈالر کی امپورٹ دکھائی دے رہی ہوں تو روپے کی گرتی ہوئی قدر روکنا ممکن نظر نہیں آتا۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے شاہی اخراجات کم کرے، درآمدی اور دیگر شعبہ جات کو سستی گیس دی جائے، صنعت چلائیں تاکہ ملک سے زیادہ سے زیادہ برآمد اور کم سے کم درآمد ہو، مہنگائی کم کرنے کے لیے حکومت بجلی کے نرخوں میں کمی کرے، پٹرول کی قیمتوں کو کم کرنے سمیت عوام اور معیشت کو ریلیف دیا جائے۔ پاکستان کی موجودہ مہنگائی شرح سود میں کمی کی وجہ سے نہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟