01 دسمبر 2021
تازہ ترین
کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے تبدیلی نہیں آنے دیتے، عمران خان

کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے تبدیلی نہیں آنے دیتے، عمران خان

اسلام آبادٜ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جو لوگ پرانے کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ تبدیلی نہیں آنے دیتے، مرے ہوئے لوگوں کے ووٹوں کا اندراج کرایا ہوا ہے، کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے جدت نہیں لانا چاہتے۔ وزیراعظم نے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل پورٹل کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے کبھی اوورسیز پاکستانیوں کو اثاثہ نہیں سمجھا، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے ہر حکومت ان کی قدر کرے گی، اوورسیز پاکستانیوں کو ملکی جمہوریت میں شامل کرلیا ہے، اوورسیز پاکستانیوں کے لئے پاور آف اٹارنی کا بڑا مسئلہ تھا ہم نے ان کا یہ معاملہ بھی حل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے دنیا کو بدل دیا ہے، ٹیکنالوجی استعمال نہ کرنے سے زیادہ احمقانہ بات اور کیا ہوسکتی ہے اس لئے ہمیں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کی منظوری سے بہت خوشی ہوئی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ جو لوگ پرانے کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ تبدیلی نہیں آنے دیتے، مرے ہوئے لوگوں کے ووٹوں کا اندراج کرایا ہوا ہے، کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے جدت نہیں لانا چاہتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر میں آٹومیشن کی کوشش کی لیکن اسے ایف بی آر نے ہی رکوا دیا، یوٹیلیٹی سٹورز میں جانچ کے لیے اقدامات کا فیصلہ کیا لیکن یوٹیلیٹی سٹور میں کام کرنے والوں نے ہی سٹے آرڈر لے لیا، گزشتہ سال 15 لاکھ ووٹ ضائع ہوئے، پاکستان کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ کرپٹ سسٹم کو بچانے والے بیٹھے ہیں، لیکن امید ہے ای وی ایم سے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ 1970ئ کے بعد الیکشن شفاف نہیں ہوئے، تین سال کی کوشش کے بعد ٹریک اور ٹریس سسٹم لا رہے ہیں، ای وی ایم سے دھاندلی کے تمام راستے بند ہو جائیں گے، اپوزیشن سمندرپار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی کیوں مخالف ہے، اوورسیز پاکستانیوں کے پیسے سے ملک چلتا ہے لیکن ان کے پاس ووٹ کا حق نہیں تھا جو کہ غلط تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سمندر پار پاکستانی 30ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھیجتے ہیں، ہم ایکسپورٹ کے سبب خلا پر نہیں کر سکتے لیکن آج ان کے پیسے کی بدولت پاکستان کھڑا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اس سے قبل جانشینی کے سرٹیفکیٹ کے ذریعے ان کو ٹیکنالوجی کی بدولت سہولت دی تھی، جو ایک طویل عمل تھا لیکن آج ہم نے اس عمل کو آسان بنایا اور آج یہ دوسرا عمل ہے جس سے ہم نے ان کی زندگیوں کو آسان بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب یا زلزلے سمیت جب بھی کوئی مسئلہ آیا تو سمندر پار پاکستانیوں نے دل کھول کر مدد کی اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان آگے بڑھے، اسی لیے میرے دل میں ان کی خاص اہمیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سمندر پار پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں اور اگر ہم اس اثاثے کا صحیح معنوں میں استعمال کر لیں تو ہمیں آئی ایم ایف سمیت کسی کے بھی قرضوں کی ضرورت نہ پڑے لیکن بدقسمتی سے ہم نے انہیں کبھی اثاثہ نہیں سمجھا اور ان کی زندگی آسان بنانے کے بجائے پریشانیاں پیدا کیں۔ مزید برآں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا میں سیاحت کے شعبے کی استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ کی فراہمی سے عوام کو معیاری علاج معالجے کی سہولتوں  کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر ایگریکلچر ٹرانفارمیشن پلان، جنگلات کے تحفظ کیلئے اقدامات اور صوبے میں جاری انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دریں اثنا وزیر اعظم نے بیمار ہونے کے باوجود اجلاس میں شرکت پر ایم این ایز کے جذبے کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا ہے۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ میں قوم اور پی ٹی آئی کے توسط سے گزشتہ روز ہونے والے مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں بیماری کے باوجود ووٹنگ کیلئے آنے والے ایم این ایز کا شکریہ ادا کرتا ہوں، خیال زمان، احسان اللہ ٹوانہ، راحت امان اللہ بھٹی شدید علالت کے باوجود آئے جبکہ شیخ رشید کا شکر گزار ہوں جو بھائی کی وفات کے باوجود اجلاس میں آئے۔ مزید برآں وزیر اعظم نے ٹیکس کے نظام میں بہتری اور آسانی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس کی ریکارڈ کیلکشن عوام کے حکومت پر اعتماد کی عکاسی ہے۔ ان خیالات اظہار وزیر اعظم  نے ماہر معاشیات آرتھر بیٹزلافر سے ملاقات کے دوران کیا، جس میں مشیر خزانہ شوکت ترین بھی موجود تھے، اس موقع پر عمران خان نے پاکستانی ٹیکس کے نظام کی مختلف جہتوں پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کیلئے حکومت ٹیکس کے نظام میں بہتری اور آسانی کو یقینی بنا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ماہر معاشیات سے ملاقات کے دوران پوری دنیا میں رائج ٹیکس نظام کی مثبت اور منفی اثرات زیر گفتگو رہے اور پاکستان میں ٹیکس بیس بڑھانے اور نظام کی بہتری اور جدت پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیراعظم کی آرتھر بیٹز لافر سے ملاقات کے دوران عوام پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے ساتھ نظام میں آسانی لانے پر بھی غور کیا گیا۔ ادھر وزیراعظم سے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے الوداعی ملاقات کی۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزیراعظم ہائوس کا دورہ کیا، ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ڈی جی آئی ایس آئی کی خدمات کو سراہا۔ عمران خان نے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس سے قبل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی الوداعی ملاقات کی۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟