30 نومبر 2021
تازہ ترین
اتحادی جماعتوں کو قانون سازی میں مدد پر مجبور کیا جا رہا، پی ڈی ایم، متنازعہ حکومتی قوانین سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

اتحادی جماعتوں کو قانون سازی میں مدد پر مجبور کیا جا رہا، پی ڈی ایم، متنازعہ حکومتی قوانین سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

اسلام آبادٜ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ٟ پی ڈی ایمٞ کے اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں کو قانون سازی میں حکومت کی مدد کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم) کا ورچوئل اجلاس ہوا، اجلاس کی صدارت حکومت مخالف اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کی، سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف، قائد حزب اختلاف شہباز شریف، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپا¶، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل، جمعیت علمائے پاکستان ٟ جے یو پیٞ کے جنرل سیکرٹری شاہ اویس نورانی اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر جماعتوں کے مرکزی قائدین نے شرکت کی۔ سربراہی اجلاس 3گھنٹے جاری رہا، اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں مشترکہ اجلاس سے متعلق اپوزیشن کی سٹیئرنگ کمیٹی کو ٹاسک سونپ دیا گیا۔ اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن سٹئیرنگ کمیٹی کا جلد اجلاس بلاکر مشترکہ اجلاس سے متعلق حکمت عملی تیار کرے۔ فیصلہ کن لانگ مارچ سے متعلق تجاویز تیار کرنے کا ٹاسک پی ڈی ایم کی سٹیئرنگ کمیٹی کو سونپ دیا۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پی ڈی ایم نے حکومتی متنازعہ قوانین کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، شاہد خاقان عباسی، کامران مرتضی، عطائ اللہ تارڑ کو قانونی تجاویز کی تیاری کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ اعلامیہ کے مطابق 22 نومبر کو پی ڈی ایم سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا، تجاویز کی تیاری کے لئے قائم پینل وکلائ سے مشاورت کی جائے گی۔ 23نومبر کو پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں سٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات کی حتمی منظوری دی جائے گی۔ اعلامیہ کے مطابق حکومت کی اتحادی جماعتوں کو قانون سازی میں حکومت کی مدد کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ حکومتی اتحادی جماعتوں کے لوگوں سے ٹکٹس کی کاپیاں بھی حاصل کی گئی ہیں، پی ڈی ایم مداخلت کو قبول نہیں کرتی اور عمل کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ اس سے قبل سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں متحدہ اپوزیشن کے سینئر رہنمائو ں نے شرکت کی، مشترکہ اجلاس اور قانون سازی سے متعلق امور پر غور کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ مشترکہ اجلاس بلانے کی باتیں اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کی نیت کالی ہے۔ اپوزیشن سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس بلانے پر متحدہ اپوزیشن کے تمام اراکین کی حاضری یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور حکومتی سیاہ قانون سازی کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔ اجلاس میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے کہا گیا کہ سپیکر قومی اسمبلی کو خط بھی لکھ دیا لیکن حکومت کی طرف سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہورہا ہے، مشاورت کا زبانی جمع خرچ کرنے کے علاوہ حکومت کی طرف سے عملاًاب تک کچھ نہیں ہوا، اپوزیشن کے مسلسل اجلاس ہورہے ہیں، چھٹی کے دن بھی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جبکہ قومی مفاد میں اپوزیشن کا رویہ مثبت، حکومت کا بدنیتی پر مبنی اور منفی ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے مزید کہا کہ حکومتی منفی رویہ ملک کو انارکی ، افراتفری اور انتشار کی طرف لیجا رہا ہے، قومی سلامتی ، انتخابی اصلاحات، افغانستان ، جموں و کشمیر، فیٹف ہر معاملے پر اپوزیشن نے ذمہ داری ، سنجیدگی اور قومی مفاد میں کردار نبھایا۔ اجلاس میں قرار دیا گیا کہ حکومتی ڈرامہ بازیاں بتا رہی ہیں کہ عمران نیازی حکومت عوامی و قومی امور میں سنجیدہ اور مخلص نہیں، اپوزیشن کے علاوہ اب حکومتی ارکان اور اتحادی بھی عمران نیازی کی ضد، ہٹ دھرمی اور انا پرستی پر نالاں ہیں، پاکستان کا پورا نظام ایک شخص کی ضد اور انا کی بھینٹ چڑھا یا جارہا ہے جو افسوسناک اور قابل مذمت ہے جبکہ اپوزیشن ہی نہیں، حکومتی اراکین اور اتحادیوں کا بھی عمران نیازی پر عدم اعتماد ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟