01 دسمبر 2021
تازہ ترین
سیٹلائٹ کو مدار میں پھینکنے والی غلیل کی آزمائش

سیٹلائٹ کو مدار میں پھینکنے والی غلیل کی آزمائش

کیلیفورنیاٜ  5برس سے راکٹ ہی سیٹلائٹ کی سواری بنے ہیں اور اب لانگ بیچ کیلی فورنیا کی ایک کمپنی اسپن لانچ نے ایک غیر روایتی انداز سے سیٹلائٹ داغنے کا طریقے پر کام کیا ہے جس کی پہلی آزمائشی فلائٹ کی گئی ہے۔ اسپن لانچ کو دنیا کا پہلا حرکی راکٹ نظام کہا جاسکتا ہے جس پر 2015ئ سے کام جاری ہے۔ اس کا مقصد خلا میں سیٹلائٹ بھیجنے کے کم خرچ اور ماحول دوست طریقہ وضع کرنا ہے۔ اسپن لانچ کے مطابق 22اکتوبر کو ایک تجربہ کیا گیا جس کی تفصیل اب جاری کی گئی ہے۔ بس اتنا ہی بتایا گیا ہے کہ نیو میکسیکو سے سیٹلائٹ کا ایک نمونہ آواز سے کئی گنا رفتار سے آسمان پر بھیجا گیا اور بعد میں اسے تلاش بھی کرلیا گیا۔ کمپن نے ایک گول ڈبیہ جیسی بہت بڑی طشتری بنائی ہے جس کی بلندی امریکی مجسمہ سے کچھ زیادہ ہے۔ اس میں ہوا باہر نکال کر اندر ویکیوم قائم کیا گیا ہے۔ اندر کاربن فائبر کی ایک ڈور بنائی گئی ہے جسے ایک طاقتور موٹر سے گھمایا جاتا ہے، اس کے سرے پر سئٹلائٹ رکھا جاسکتا ہے۔ اب پورا نظام اس پروجیکٹائل کو 8047کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے گھماتا ہے جو آواز کی رفتار سے کئی گنا تیزہوتا ہے۔ اس کے بعد سیٹلائٹ کو 45درجے پر چھوڑدیا جاتا ہے جو لانچ ٹیوب سے باہر نکل جاتا ہے اور مدار تک پہنچ جاتا ہے تاہم اس کے ساتھ تھرسٹر لگے ہوتے ہیں جو سیٹلائٹ کو دھکیلنے کے لیے مزید قوت فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح چار گنا کم ایندھن خرچ ہوتا ہےاور روایتی راکٹ کے مقابلے میں سیٹلائٹ کو داغنے کا خرچ بھی 10درجے کم ہوسکتا ہے۔ اس پورے سسٹم کو ایل 100آربٹل ماس ایسلیریٹرکا نام دیا ہے جو 200کلوگرام تک وزنی سیٹلائٹ کو مدار میں بھیج سکتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ جب پورا اندرونی نظام ہولناک رفتار سے سیٹلائٹ کو گھماتا ہے تو اس پر عام ثقلی اثر سے 10000گنا زائد قوت لگتی ہے ۔ اب یہاں ضروری ہے کہ سیٹلائٹ کے اندر کا باریک سرکٹ اور حساس نظام اس قوت کو برداشت کرسکے اور ماہرین کے مطابق ان کے تیارکردہ سیٹلائٹ اس قابل ہیں۔ دلچسپ بات ہے کہ دنیا کے کئی ممالک نے راکٹ کے بنا زمین سے سیٹلائٹ مدار تک بھیجنے کے کئی پروگرام شروع کیے تھے۔ امریکا اور کینیڈا نے 1960ئ میں پروجیکٹ ہارپ شروع کیا اور اس کے بعد عراقی صدر صدام حسین نے بابل کے نام سے ایک کوشش کی لیکن اس میں شامل اہم سائنس داں کو قتل کردیا گیا تھا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟