01 دسمبر 2021
تازہ ترین
ظامِ شمسی کے پراسرار سیارچوں کی تلاش

ظامِ شمسی کے پراسرار سیارچوں کی تلاش

کولاراڈوٜ ناسا نے افریقہ میں ملنے والے مشہور رکاز، فاسل کے نام پر بنا ایک نیا خلائی جہاز زمین سے پرے بھیجا ہے جو سیارہ مشتری کے قریب ان سیارچوں ٟ ایسٹرائیڈزٞ کی شناخت کرے گا جو نظامِ شمسی کی تشکیل کی قدیم ترین باقیات میں سے ہیں اور انہیں ماہرین نے نظامِ شمسی کے رکاز ٟ فاسلزٞ قرار دیا ہے۔ کیپ کناورل سے الائنس اٹلس راکٹ سے بھیجنے جانے والے اس خلائی جہاز کا کام سیارچوں کے دو گروہوں کی کھوج کرنا ہے جو گیسی دیو نما سیارے مشتری کے گرد گھوم رہے ہیں۔ خیال ہے کہ نظامِ شمسی کے تمام سیارے بن گئے تب بھی ان کی قسمت نہ بدلی اور وہ آوارہ اجسام کی مانند گردش کر رہے ہیں۔ اس طرح نظامِ شمسی کی باقیات میں شامل ہیں۔ 12برس بعد مشتری پہنچنے والے اس سیارے کا نام انسانی ارتقا کی ایک اہم دریافت پر رکھا گیا ہے۔ لوسی نامی رکاز افریقہ سے ملا تھا جو قدیم ترین انسانی فاسل بھی ہے۔ یہ وجہ ہے کہ خلائی جہاز لوسی بھی نظامِ شمسی کی قدیم باقیات پر ہماری معلومات میں اضافہ کرے گا۔ بولڈر کولاراڈو میں واقع سائوتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ہال لیویعن کہتے ہیں کہ مشتری کے مدار سے 60درجے پر رہتے ہوئے تمام سیارچے گردش کرتے ہیں.ان کے مطابق تمام سیارچوں پر سورج اور مشتری دونوں کے ثقلی اثرات ہورہے ہیں۔ خلائی جہاز ان 12سیارچوں کا رقبہ، شکل، حجم، درجہ حرارت، سطح اور ان کی دیگر تفصیلات نوٹ کریں گے۔ منصوبے سے وابستہ ایک اور سائنسداں ڈاکٹر کارلی ہووٹ کہتے ہیں کہ نظامِ شمسی کے یہ سیارچے اور اس جیسے دیگر اجسام کیوپر بیلٹ سے آتے ہیں اور وہیں تشکیل پاتے ہیں۔ لیکن ان بارہ سیارچوں پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ 2027اور 202میں خلائی مشین چند سیارچوں کے پاس سے گزرے گا اور 2033میں وہ تمام سیارچوں کے مجموعے کے قریب پہنچے گا۔ اس کے لیے لگ بھگ 6ارب کلومیٹر کا سفر طے کرے گا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟