22 اپریل 2021
تازہ ترین
 آپ کے فون پہ سچ بولنے کی سہولت نہیں

آپ کے فون پہ سچ بولنے کی سہولت نہیں

 ٹی وی پہ موبائل فون کے اشتہار دیکھ کر ہمیں وہ زمانہ یاد آگیا جو کیا خوب ہوتا تھا جب موبائل فون نہیں تھا۔ موبائل فون اور پرائیویٹ نیوز چینلز کی آمد سے ہمارا سکون، کردار، ہماری ثقافت اور اخلاقی قدروں کے ساتھ ہمارا تحمل اور برداشت بھی رخصت ہوگئی۔ ہمارے نوجوان بچے اور بچیاں جو بزرگوں کی موجودگی میں ایک دوسرے سے بات کرنے سے کتراتے تھے۔ گھر میں فون ہونے کے باوجود فون کرنے یا فون سننے کی جرأت نہیں ہوتی تھی، اب ان کی سیلولر فون پہ اپنے کمرے یا باتھ روم میں گھنٹوں باتیں ہوتی ہیں، بزرگوں کی موجودگی میں ایس ایم ایس کے ذریعے چَیٹ ہوتی ہے، عشق ہوتا ہے، ملاقاتوں کا وقت اور جگہیں متعین ہوتی ہیں۔ آج سکول کالج سے لے کر دُکان دار حتیٰ کہ بھکاریوں کے پاس موبائل فون کا نہ ہونا بیک ورڈ سمجھا جانے لگا ہے۔ یہ موبائل فون ہی ہے جس کی وجہ سے دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتیں آسان اور دہشت گردوں کی پکڑ مشکل ہوگئی ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں موبائل فون کی سمیں جعلی جاری کی جاچکی ہیں۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ان غیر قانونی موبائل فون کی بدولت کہیں بھی ڈاکہ ڈالا جاسکتا ہے، کسی کو بھی لوٹا جاسکتا ہے۔ یہ موبائل فون ہی ہے کہ جس کی وجہ سے دہشت گرد پولیس اور فوج کی کارروائی سے پہلے اپنا ٹھکانہ بدل لیتے ہیں اور ان کے ہاتھ نہیں آتے۔ سوچنا یہ چاہیے کہ اگر موبائل فون نہ ہوتا تو کیا ہم ترقی پذیر رہ جاتے؟  کہا جاتا ہے کہ موبائل فون سے رابطے آسان ہوگئے ہیں، فاصلے کم ہوگئے ہیں اور کمیونیکیشن میں آسانی پیدا ہوگئی ہے، مگر یہ سب کسی ترقی یافتہ معاشرے کے لئے ہے نہ کہ ہم جیسے معذور معاشرے کے لئے۔ ٹی وی پہ سیلولر فون کے اشتہاروں کی بھرمار سے ظاہر ہوتا ہے جیسے ہمیں سوائے فون پہ بات چیت کرنے یا عشق معاشقہ کرنے کے اور کوئی کام نہیں۔ گاڑی چلاتے ہوئے اکثر اگلی گاڑی کو ڈگمگاتے دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ ڈرائیور کا ایک ہاتھ سٹیئرنگ پہ اور وہ دوسرے ہاتھ میں فون پکڑا ہوگا۔ آج کل فون کال کرنے پہ دوسری طرف سے گانے یا سرکاری پیغام بھی سننے پڑتے ہیں۔ کچھ دین دار لوگوں نے اس میں قرآنی آیات اور تلاوت بھی بھری ہوتی ہے۔ قرآنی آیات کے بعد اکثر لوگ ایک دوسرے سے جھوٹ بولتے ہیں، دو نمبر کاروبار کرتے ہیں۔ ایس ایم ایس کے ذریعے اشتہارات کے علاوہ سیاسی لطیفوں اور حکومت یا کسی لیڈر کے خلاف رومن انگلش میں عبارتیں بھی ایکسچینج کی جاتی ہیں۔ ہمارے فنکاروں کی اکثریت ایسی بھی ہے جنہوں نے موبائل فون کو روزی کا وسیلہ سمجھ کے رکھا ہوا ہے اور وہ فارغ اوقات میں فون پہ فحش لطیفوں اور ڈائون لوڈ کی گئی فحش فلموں سے دل بہلاتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے کئی ساتھی ایک دوسرے سے ملتے ہی اپنے موبائل فون کی باتیں شروع کردیتے ہیں کہ کس کے پاس کون سا نیا ماڈل آیا ہے۔ 99 فیصد فنکار ایسے ہیں جن کی کمپیوٹر سے کوئی شدھ بدھ نہیں، انہیں ای میل دیکھنی آتی ہے اور نہ پڑھنی۔ بقیہ ایک فیصد میں آدھے ایسے ہیں جن کے پاس نیٹ کنکشن نہیں اور اگر ہے بھی تو وہ ننگی تصاویر اور فحش فلمیں دیکھنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں امیر یا بڑے عہدوں پہ فائز لوگوں نے دو یا تین موبائل کنکشن لئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک عام لوگوں کو سننے، دوسرا عشق لڑانے اور تیسرا بیوی کو دکھانے کے لئے۔ سیلولر فون پہ کالر آئی ڈی کی وجہ سے اکثر بڑے لوگ حاجت مندوں کے فون نہیں سنتے۔ کچھ لوگوں نے فون پہ آنسرنگ مشین لگائی ہوئی ہے، جس میں پیغام سن کر نہ تو وہ جواب دیتے ہیں اور کچھ اگر غلطی سے کال ریسیو کرلیں تو جھوٹ بول دیتے ہیں کہ وہ تو شہر سے باہر ہیں۔ ایک بار ہم نے ایک وزیر صاحب کو اسلام آباد کے کسی ہوٹل کی کافی شاپ میں بیٹھے دیکھا تو انہیں موبائل فون پہ کال کی۔ وزیر صاحب نے فون اٹینڈ کیا اور بولے، میں اس وقت کراچی میں ہوں، میں نے کہا، اتفاق سے میں بھی کراچی میں ہوں اگر اجازت ہو تو آپ کے پاس آجائوں۔ وہ بولے، میں تو شام کی فلائٹ سے واپس چلا جائوں گا، تم کیسے ملو گے؟ میں نے کہا، میں ابھی مل لیتا ہوں۔ یہ کہہ کر میں چلتا ہوا اُن کی ٹیبل کے پاس جاپہنچا۔ وہ مجھے دیکھ کر سٹپٹا گئے اور کھسیانی مسکراہٹ سے بولے، یار! پہلے تو جھوٹ پکڑا نہیں جاتا تھا، اب اس موبائل فون سے پکڑا جاتا ہے۔ ہم نے دل میں سوچا، وزیر صاحب نے جھوٹ بولنے کو بُرا نہیں کہا، البتہ موبائل فون کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں۔  ہمارے ملک میں موبائل فون کا فائدہ جتنا چور اچکوں اور بھکاریوں نے اٹھایا، اُتنا شاید ہی کسی اور نے اٹھایا ہو۔ ایک بھکاری سے ہم نے پوچھا کہ اسلام آباد میں بھیک مانگنے پہ پابندی لگ گئی ہے، اب تم کیا کروگے؟ وہ جیب سے موبائل فون نکال کر بولا، اس کی بدولت کبھی پکڑا نہیں جائوں گا، جوں ہی کسی سنتری کا چھاپہ پڑا تو میرے ساتھی مجھے پہلے ہی مطلع کردیں گے اور میں سنتری کے آنے سے پہلے اِدھر اُدھر ہوجائوں گا۔ موبائل فون سے بینک لٹیروں نے بھی بڑا مالی فائدہ اٹھایا۔ لٹیرے کا ساتھی بینک سے ہی ساتھی کو مطلع کردیتا ہے کہ فلاں فلاں شخص اتنی رقم کیش لے کر بینک سے نکلا ہے۔ اسی طرح بسوں میں سوار ڈاکوؤں کے ساتھی بھی فون پہ مطلع کردیتے ہیں کہ فلاں فلاں بس میں باراتی جارہے ہیں۔ بڑے لوگوں میں پولیس کے افسر، آئی جی، سیکریٹری اور اخبار یا چینلز کے مالک بھی ہمیشہ دو موبائل فون رکھتے ہیں۔ اُن کا ایک موبائل فون ان کے سیکریٹری کے پاس ہوتا ہے جب کہ دوسرا وی آئی پیز کے لئے۔ آپ کو ہمیشہ وہ موبائل نمبر دیں گے جو ان کے سیکریٹری کے پاس ہوتا ہے۔ اگر ایک عام آدمی ان کے موبائل فون پہ کال کرنے کی جرأت کر بھی لے تو ان کے سیکریٹری ہمیشہ کہہ دیتے ہیں کہ صاحب اس وقت ایک اہم میٹنگ میں ہیں۔ اس طرح عام بندہ ان کے موبائل پہ ان سے کبھی بھی بات نہیں کرپاتا۔  تو جناب دوسرے کاموں کی طرح اب موبائل فون بھی ہمارے دو نمبر معاشرے کی عکاسی کرتاہے۔ جس سماج میں عدل و انصاف نہ ہو، جنسی گھٹن ہو، ایک دوسرے کو دھوکہ دینا اولین مقصد ہو، کام چوری کی ساٹھ سالہ روایت ہو، رشوت اور جھوٹ کا بول بالا ہو، سچائی اور ایمان داری کا منہ کالا ہو، وہ معاشرہ چاہے جتنی ترقی کرلے، جتنی مرضی بلڈنگیں اور پلازے بنالے، جتنے مرضی موبائل فون کانوں سے لگالے، وہ معاشرہ ایک دن ویسا ہی عبرت ناک بن جاتا ہے، اس کی آنکھ میں غیرت کی چمک مرچکی ہوتی ہے، شرافت اور حیا کی روشنی ماند پڑچکی ہوتی ہے، اس کے ہاتھ دوسروں کی جیب کاٹنے پہ تیار رہتے ہیں اور اس کے کانوں میں موبائل مرض پھیل چکا ہوتا ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟