22 اپریل 2021
تازہ ترین
فیٹف کی بھارت نوازی اور رحمٰن ملک کا خط

فیٹف کی بھارت نوازی اور رحمٰن ملک کا خط

برعکس وہ مسلم تنظیمیں، ادارے اور شخصیات جو اسلام اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے رفاہی و فلاحی خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کے لئے ہر ممکن حد تک دبائو بڑھایا جاتا ہے۔ پاکستان میں جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت فائونڈیشن کا جرم اس کے علاوہ کیا ہے کہ انہوںنے ہمیشہ دْکھی انسانیت کی خدمت کی اور کشمیر و فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر غاصب قوتوں کے مظالم اور دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کی؟ لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں واضح قرار دے چکی ہیں کہ جماعۃالدعوۃ اور اس کی قیادت کے خلاف بھارت نے پاکستان کو جتنے بھی ڈوزیئر پیش کیے، وہ محض بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈا پر مبنی ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ہم ایف اے ٹی ایف سے پوچھتے کہ تھرپارکرسندھ اور بلوچستان میں صاف پانی کے کنویں کھدوانے سے کون سی دہشت گردی پھیل رہی ہے؟ اور ملک میں غریبوں، بیوائوں اوریتیموں کے سر پر دست شفقت رکھنے سے اس کا کیا نقصان ہو رہا ہے؟ لیکن حقیقت ہے کہ جب ایک مرتبہ دبائو قبول کرلیا جائے تو پھر بیرونی قوتوں کے مطالبات بھی دن بہ دن بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اس معاملے میں بھی ایسا ہی دیکھنے میں آیا۔یہاں ایک اور بات بہت اہم ہے کہ جماعۃالدعوۃ اور اس کی قیادت پر سب سے بڑا الزام کشمیریوں کی مددوحمایت کا ہے، لیکن تنازع کشمیر کو چونکہ عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا اوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل طالبان اور القاعدہ کے حوالے سے بنائی گئی، اس لئے پابندیاں لگاتے وقت کشمیر کا نام ہی نہیں لیا گیا اور کوئٹہ میں طالبان کا دفتر کھولنے کا جھوٹا الزام لگاکریو این کی سلامتی کمیٹی کی قرارداد 1267کے تحت پابندی لگادی گئی۔ اس منافقانہ اور تعصب پر مبنی رویے کو یو این کی سلامتی کمیٹی اور ایف اے ٹی ایف جیسے اداروں کی بدنیتی کے سوا اور کیا نام دیا جاسکتا ہے؟ یعنی ان اداروں کا مقصد صرف پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں کمزور اور مشکل صورت حال سے دوچار کرنا رہ گیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے حالیہ فیصلے میں جن تین مطالبات پر مزید عمل درآمد کے لئے زور دیا گیا ہے، ان میں سب سے بڑا یہ ہے کہ د ہشت گردوں اور ان کی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف مالی پابندیاں عائد کی جائیں، لیکن اس حوالے سے بھی فیٹف کا واضح جھکائو بھارت کی طرف ہے۔ بھارت نے پاکستان اور دیگر ملکوں میں دہشت گردی کو ریاستی پالیسی بنا رکھا ہے۔ وطن عزیز میں عوامی مقامات پر دھماکے ہوں یا افواج پاکستان اور دیگر اداروں پر حملے، سب میںبھارت سرکار اور اس کی ایجنسیاں ملوث رہی ہیں اور اس وقت بھی افغانستان کو بیس بنا کر پاکستان میں دہشت گردی کی آگ بھڑکائی جارہی ہے۔  امریکی ادارے فارن پالیسی، اقوام متحدہ اور ہیومن رائٹس سمیت مختلف ادارے یہ رپورٹیں شائع کرچکے کہ بھارت نے کروڑوں ڈالر خرچ کرکے تحریک طالبان، جماعت الاحرار اور دوسری بعض تنظیموں کو پاکستان میں دہشت گردی کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور انڈیا سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میںملوث ہے۔ اسی طرح داعش اور بھارت کے گٹھ جوڑ سے متعلق بھی بہت کچھ لکھا جارہا ہے۔ یہ رپورٹیں بھی شائع ہو چکیں کہ 2019 میں ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں کو نشانہ بنا کر 3سو افراد کے قتل، کابل میں گوردوارے پر حملے، 2017 میں ترکی اور بعد ازاں نیویارک اور سٹاک ہوم میں ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی میں داعش کے علاوہ بھارت کا ہاتھ بھی تھا۔ ایک بین الاقوامی جریدے نے تو یہاں تک لکھا کہ بھارت داعش کا مضبوط گڑھ بن چکا اور وہاں داعش کے 87 کیمپ قائم ہیں، مگر ان ساری رپورٹوں اور ٹھوس ثبوتوں کے باوجودایف اے ٹی ایف کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ امریکی وزارت خزانہ نے بھارت کے 44 بینکوں کے منی لانڈرنگ میںملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت بھی جاری کیے،مگر بھارت کے حوالے سے فیٹف کی آنکھوںپر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ ایسی صورت حال میں رحمٰن ملک کا کہنا ٹھیک ہے کہ پاکستان فیٹف کی بھارت نوازی اور انڈیا کے دہشت گرد کردار کو بے نقاب کرنے کے لئے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرے۔جب بھارت کسی بھی دوسرے ملک کی طرح فیٹف قوانین کا پابندہے تو پھر اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ پاکستان کو فیٹف اور بھارتی گٹھ جوڑ کے خلاف ملک میں قومی یکجہتی کا ماحول پیدا کر کے عالمی سطح پر بھرپور سفارتی مہم چلانا ہوگی، وگرنہ فیٹف کا بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے خلاف امتیازی رویہ ختم نہیںہو گا اور گرے لسٹ میں شامل ہونے سے 38ارب ڈالر کا ہونے والا نقصان ایک سو ارب ڈالر سے بھی بڑھ سکتا ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟