21 جولائی 2019
تازہ ترین
اسلام آباد، اغوا کی گئی بچی کا زیادتی کے بعد قتل، لاش جنگل سے برآمد

اسلام آباد، اغوا کی گئی بچی کا زیادتی کے بعد قتل، لاش جنگل سے برآمد

 ایک اور معصوم بچی ہوس کی بھینٹ چڑھ گئی۔ اسلام آباد میں رہائش پذیر مہمند ایجنسی کی دس سالہ فرشتہ کو مبینہ جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے کئی دنوں تک ایف آئی آر بھی درج نہیں کی۔ تقریباً 5 دن بعد لاش قریبی جنگل سے ملنے پر لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی۔ بچی کو 15مئی کو تھانہ شہزاد ٹا¶ن کے علاقے سے کھیلتے ہوئے اغوا کیا گیا۔ لواحقین ایف آئی آر درج کروانے تھانے گئے لیکن پولیس نے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ غمزدہ خاندان کی ایف آئی آر درج ہوئی نہ ہی لڑکی کو تلاش کیا گیا۔ بچی کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے اور وہ والدین کے ساتھ اسلام آباد میں رہائش پذیر تھی۔ ابتدائی معائنہ رپورٹ کے مطابق بچی کی لاش پر تشدد کے نشان پائے گئے جبکہ جسم کئی حصے جانوروں نے کھائے ہوئے تھے۔ ذرائع کے مطابق ناکافی شواہد کی وجہ سے بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ مرتب کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بچی کے مختلف اعضا کے نمونے ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں جبکہ مکمل پوسٹ مارٹم رپورٹ سات روز بعد آئے گی۔ دوسری جانب واقعے کی انکوائری ایس پی رورل عمر خان کے سپرد کر دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق بچی کے قاتل کا سراغ لگا لیا ہے۔ مجرم کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ ادھر اسلام آباد میں قتل ہونے والی فرشتہ مہمند کے واقعہ کے خلاف ٹرائبل یوتھ موومنٹ نے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟