05 دسمبر 2021
تازہ ترین
 لاہورسنٹر فار پیس ریسرچ کے زیر اہتمام  راونڈ ٹیبل کانفرنس

لاہورسنٹر فار پیس ریسرچ کے زیر اہتمام راونڈ ٹیبل کانفرنس

 پاکستان اور کرغزستان کے دوستانہ تعلقات سے خطے میں ترقی کے نئے دور کھلیں گے،دوطرفہ تجارت اور پارٹنرشپ سے دونوں ممالک کی عوام کو روز گار اور تجارت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے ،پرائیوٹ سیکٹر کے ساتھ ساتھ حکومتی سطع پر بھی پاک کرغزستان دوستی کو مضبوط کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہونگے ۔ان خیالات کا اظہار لاہورسنٹر فار پیس ریسرچ کے زیر اہتمام لاہور کے مقام ہوٹل میں فیوچر آف پاک کرغزستان ریلیشنز/ پارٹنر شپ فار انوسمنٹ ٹریڈ اینڈ ٹور ازم کے عنوان سے منعقد ہونے والی راونڈ ٹیبل کانفرنس میں کیا جس کے مہمان خصوصی پاکستان میںکرغزستان کے سفیر ایرک بیشم ڈیو تھے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق سفیر شمشاد احمد خان کا کہنا تھا کہ پاک کرغزستان دوستی نہ صرف دونوں ممالک کی ترقی کاباعث بنے گی بلکہ سنٹرل ایشیا میں کاروبار کے نئے رستے بھی کھلیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پاک کرغزستان دوستی کو ایک اور قدم آگے لیجانے پر کرغزستان کے سفیر ایرک بیشم ڈیوکے شکر گذار ہیں کہ وہ ہمارے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے خصوصی طور پر لاہور تشریف لائے۔انھوں نے کہاآج کی ہماری ملاقات اور کانفرنس کے انعقاد کا مقصد دو طرفہ پر روشی ڈالنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں تجارت اور ٹورازم کی ترقی کے لئے مثبت منصوبے تیار کرنا بھی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ " ایکو ممالک" کے ممبر کی حیثیت سے میں پاک کرغزستان تعلقات کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ سی پیک کی طرح ہم پاک کرغزستان منصوبوں کو عملی شکل دیکر سنٹرل ایشیا میں صنعتی انقلاب برپا کر سکتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ دنوں ممالک کی حکومت ،عوام ،ماہر معاشیات ،تاجروں ،پالیسی میکرز کو پاک کرغزستان کی ترقی کے لئے آگے آنا چاہیئے،آج کی کانفرنس کا انعقاد اس سوچ کی جانب پہلا قدم ہے ۔انھوں نے کہا کہ پاکستان جیوپولیٹکل حیثیت سے سنٹرل ایشیا کے ممالک کی ترقی اور تجارت میں "برج ©©©©"بن سکتا ہے جیسا ہم نے چین کے تعاون سے سی پیک منصوبے کے ذریعے کیا ہے ۔انھوں نے کہا کہ ہم اس حوالے سے افغانستان کے سیاسی لیڈروں سے بھی بات کرچکے ہیں اور گذشتہ برس جون میں بھوربن میں 40 بڑے سیاسی رہنماوں سے خطے میں امن قائم کرنے اور تجارت کے فروغ پر بات کر چکے ہیں ۔سابق سفیر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی تاریخ ملتی جلتی ہے ، پاک کرغزستان کی دوستی کی ابتدا اس وقت ہی ہو گئی تھی جب اسے پاکستان نے ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر تسلیم کر لیا تھا ۔انھوں نے کہا کہ شنگھائی کانفرنس کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کرغزستان کےاہم رہنماو¿ں سے ملاقات میں دو طرفہ تجارت بڑھانے اور خطے میں امن لانے کے حوالے سے بات کی جس سے تعلقات کا نیا دور شروع ہو ا۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس ضمن میں دونوں ممالک کے درمیان 35 ایم اویو پر دستخط ہوچکے ہیں اور اب اس کو عملی شکل دینے کے لئے بھی بات چیت ہونی چاہیئے۔سابق سفیر کا کہنا تھا کہ سی پیک اور پاک کرغزستان دوستی کے خلاف پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے مگر ہمارے دشمنوں کو اس سلسلہ میں کوئی کامیابی نہیں ملے گی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ٹیوٹا علی سلمان صدیق کا کہنا تھا کہ میں پاک کرغزستان دوستی کو آگے بڑھانے کے لئے اسلام آباد سے آنے والے کرغزستانی سفیر کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں ۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی روابط بڑھنے سے تعلیم ،زراعت،ٹیکنیکی امور سمیت دیگر شعبوں میں انقلاب برپا ہو گا۔انھوں کہا کہ بطور ٹیوٹا چیئرمین ہم اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہیں ،ہمارے ادارے سے ہر سال 90 ہزار طلبہ مختلف ٹیکنیکی امور میں مہارت حاصل کرتے ہیں جو کرغزستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔گول میز کانفرنس کے کنوینر ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایل سی پی آر نذیر حسین نے شرکا کو آگاہ کیا کہ لاہور سینٹر فار پیس ریسرچ اس ماہ کے آخر میں ون بیلٹ ون روڈ اور سی پیک منصوبے کے اجرائ کے سلسلے میں بشکیک میں ایک کانفرنس منعقد کر رہا ہے۔ کانفرنس کا مقصد علاقائی روابط کو مضبوط اور مستحکم کرنا ہے۔ یوتھ کونسل کے سربراہ حمزہ کرامت کھوکھر کا کہنا تھا کہ ہم بطور انڈیپنڈنٹ ادارہ پاک کرغزستان تعلقات کو بڑھانے کے لئے اپنی خدمات پیش کرت ہیں ہم معزز مہمان کو یقین دلانا چہاتے ہیں کہ پاکستان حکومت کی طرح اس کے نوجوان بھی ہمسائیہ اور دوست ممالک کی ترقی کے لئے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ہم تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل ،شوز ،گڈز سپلائی ،تمباکو ،گارمنٹس سمیت تمام شعبوں میں ریسرچ اور انویسمنٹ سے پاک کرغزستان ترقی کا حصہ بن سکتے ہیں ۔آرچ بشپ آف لاہور  کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی میں مسیحی برادری کا کردار کافی اہم رہا ہے وہ کرتار پور رہداری کا منصوبہ ہو یا سی پیک ہم نے اپنا مثبت کردار ہر طرح سے نبھایا ہے اور مستقبل میں بھی پاک سرزمین کی ترقی کےلئے کام کرتے رہیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری مشنری سکولز پاکستانی طلبہ کو تعلیم سے آراستہ کر ہے ہیں جہاں 95 فی صد مسلمان بچے اور بچیاں پڑھنے آتے ہیں جو اس بات کی مثال ہے کہ ہم بطور سوشل ویلفیئر ادارہ بھی کام کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں شکرگذار ہوں کی پاک کرغزستان دوستی اور ترقی میں حصہ ڈالنے کے لئے منعقدہ اس نشست میںہمیں بھی بات کرنے کا موقعہ دیا گیا ، ہم اپنی مین پاور سے سنٹرل ایشیا کے اس اہم ترین ملک کی ترقی کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں اور ہمارا دعوی ہے کہ لاہور سنٹر فار پیس ریسرچ کے اس پلیٹ فارم سے خطے کی جیو پولیٹکل صورتحال میں اہم تبدیلی ہو گی اور آج کی نشست سے پالیسی میکنگ میں بھی آسانی پیدا ہو گی ۔انھوں نے کہا کہ کرغزستان اور پاکستان دونوں ممالک سولر ،ٹیکسٹائل اور زراعت کے شعبے میں باہمی تعاون سے ترقی کے نئے راستے کھول سکتے ہیں ۔وزیر اعظم معاون خصوصی برائے منسٹری آف انڈسٹری اینڈ پروڈکشن ڈاکٹر حسنین کا کہنا تھا کہ پاک کرغزستان دوستی بے مثال ہے جس سے سنٹرل ایشیا میں ترقی کے نئے باب کا اضافہ ہوگا ۔انھون نے کہا کہ کرغزستان بطور لینڈ لارڈ کنٹری پاکستان کی ترقی کے لئے اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ہماری یوتھ سکلز دوست ملک میں ڈیری ،زراعت اور دیگر شعبوں میں انقلاب برپا کر سکتی ہے ۔انھوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے کی تکمیل سے خطے میں زرائع آمدرورفت کے نئے رستے کھلے ہیں اور اگر پاک کرغزستان ٹرانزٹ منصوبے کا آغاز کیا جائے تو اس سے نہ صرف روزگار کے نئے رستے کھلیں گے بلکہ سنٹرل ایشین ممالک کے تجارتی روابط میں بھی اضافہ ہو گا۔ کانفرنس ے خطاب کرت ہوئے محکمہ سیاحت پنجاب کے جی ایم عاصم رضا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دیگر شعبوں کے ساتھ سیاحت کے میدان میں بھی انویسمنٹ کے مواقع موجود ہیں ۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی خصوصی ہدایت پر ہم سیاحت کے شعبے کی ترقی کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں ۔جہاں تک بات ہے کرغزستان کی تو وہاں ٹورازم کے شعبے میں ترقی کے لئے پاکستان بھی پانا کردار ادا کر سکتا ہے ۔ہم معز ز مہمان کی آمد کے موقعہ پر اس ضمن میں پانی خدمات پیش کرتے ہیں اور اس حوالے سے مکمل تعاون کے لئے تیار ہیں ۔تقریب سے لاہور چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی اظہار خیال کیا ۔  


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟