02 دسمبر 2021
تازہ ترین
کورونا وائرس کے صحتیاب مریضوں میں ایک اور بڑے نقصان کا انکشاف

کورونا وائرس کے صحتیاب مریضوں میں ایک اور بڑے نقصان کا انکشاف

نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کو شکست دینے والے کو ممکنہ طور پر دماغی افعال کے نمایاں منفی اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے اور دماغی عمر میں 10 سال کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی جو ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئی ہے۔   محققین نے بتایا 'نتائج اس خیال کو تقویت پہنچاتے ہیں کہ کووڈ 19 سے دماغی صحت کوو بھی نقصان پہنچتا ہے، جو لوگ صحتیاب ہوجاتے ہیں، یعنی علامات رپورٹ نہیں کرتے، ان کے دماغی افعال میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی'۔ اس مقصد کے لیے ذہنی آزمائش کے ٹیسٹ جیسے الفاظ یاد کرنا، ہزل حل کرنا عام طور پر الزائمر جیسے امراض کے شکار افراد کی دماغی کارکردگی کی جانچ ہپڑتال کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور اب انہیں طبی ماہرین عارضی دماغی تبدیلیوں کو جاننے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ اس تحقیق میں شامل 84 ہزار 285 افراد گریٹ برٹش انٹیلی جنس ٹیسٹ کا حصہ رہے اور نتائج کو پری پرنٹ سرور MedRxiv پر شائع کیا گیا۔   امپرئیل کالج لندن کی اس تحقیق میں 84 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ کچھ سنگین کیسز میں کورونا وائرس سے متاثرین کے دماغی افعال میں کئی ماہ تک نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟