02 دسمبر 2021
تازہ ترین
’کپور حویلی کی مطلوبہ رقم نہ ملی تو اسے منہدم کرکے کمرشل پلازہ بنائیں گے’

’کپور حویلی کی مطلوبہ رقم نہ ملی تو اسے منہدم کرکے کمرشل پلازہ بنائیں گے’

خیبر پختونخوا (کے پی) کی حکومت کی جانب سے صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھروں کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ گزشتہ ماہ ستمبر کے اواخر میں خیبرپختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ و میوزیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالصمد نے بتایا تھا کہ صوبائی حکومت نے بولی وڈ کے لیجنڈ اداکاروں کے گھروں کو خریدنے کے لیے سرکاری سطح پر کارروائی شروع کی تھی۔ ان کے مطابق حکومت، دلیپ اور راج کمار کے گھروں کو خرید کر وہاں تزئین و آرائش کے بعد دونوں جگہوں کو میوزیم میں تبدیل کرکے سیاحت کو فروغ دے گی۔ ڈاکٹر عبدالصمد کے مطابق دونوں اداکاروں کے گھروں کے حالیہ مالکان وہاں کمرشل پلازہ بنانے کے خواہاں ہیں اور انہوں نے اسی سلسلے میں دونوں تاریخی عمارتوں کی توڑ پھوڑ بھی شروع کردی تھی۔ بعدازاں اکتوبر ہی میں صوبائی حکومت نے دلیپ کمار کے گھر اور کپور حویلی پر سیکشن فور نافذ کردیا تھا جس کے مطابق اب یہ اراضی حکومت کی جانب سے خریدی جائے گی۔ تاہم اب کپور حویلی سے متعلق پشاور ہی کے ایک خاندان کا دعویٰ ہے کہ یہ حویلی ان کے والد حاجی خوشحال رسول نے ماضی میں ایک سرکاری نیلامی میں خریدی تھی اور بعد میں یہ حویلی ان کے 5 بیٹوں کے زیرِ ملکیت آئی۔ انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق حویلی کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والے حاجی خوشحال رسول کے ایک بیٹے علی قادر نے انڈیپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے خاندان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کپور حویلی کے عوض حکومت خیبرپختونخوا سے 2 ارب روپے وصول کریں گے۔ علی قادر نے کہا کہ یہ ایک قیمتی حویلی ہے، اس کی مثال نوادرات کی ہے اور نوادرات ہمیشہ مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کپور حویلی میں 35 کمرے ہیں اور ہر کمرے میں دیودار کے لیے لکڑی استعمال ہوئی ہے۔ علی قادر نے کہا کہ ہم نے برسوں اس حویلی کی حفاظت اور مرمت کی ہے اور اگر صوبائی حکومت ہمیں مطلوبہ رقم نہیں دے سکتی تو پھر ہم اسے منہدم کرکے ایک کمرشل پلازہ بنائیں گے۔ دوسری جانب کپور حویلی کو خریدنے سے متعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر عبدالصمد خان نے بتایا کہ اس حویلی کو سرکاری ملکیت بنانے کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے۔ حکومت سے حویلی کی 2 ارب روپے قیمت وصول کرنے کے مطالبے پر عبدالصمد خان نے کہا کہ مالکان تو 20 ارب روپے کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں لیکن ہم یہ دیکھیں گے کہ اس علاقے میں فی مرلہ اراضی کی قیمت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپور حویلی 6 مرلہ اراضی پر مشتمل ہے اور جس قیمت کا مطالبہ کیا جارہا ہے تو اس طرح تو ایک مرلہ 30 کروڑ روپے کا بنتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالصمد نے مزید کہا کہ صوبائی محکمہ ریونیو مذکورہ اراضی کی اصل لاگت کے حوالے سے جو رپورٹ دے گا اس کے بعد کے پی حکومت وہ رقم ضلعی انتظامیہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کرے گی۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟