02 دسمبر 2021
تازہ ترین
محکمہ ایکسائز کی تاریخ کی سب سے بڑی اور مہنگی کار رجسٹرڈ

محکمہ ایکسائز کی تاریخ کی سب سے بڑی اور مہنگی کار رجسٹرڈ

محکمہ ایکسائز کی تاریخ کی سب سے بڑی اور مہنگی کار رجسٹرڈ کر لی گئی ہے۔لیمبر گینی سپورٹس کار کی قیمت ساڑھے گیارہ کروڑ روپے ہے۔گاڑی کی رجسٹریشن 45 لاکھ 32 ہزار روپے جمع کرائی گئی۔کچھ دن قبل ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے کار کی رجسٹریشن سے معذرت کی تھی،ایکسائز کے موٹر سسٹم میں 10 کروڑ تک کی گاڑی رجسٹر ہو سکتی ہے۔   محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے سسٹم میں10 کروڑ مالیت سے زائد کی گاڑی رجسٹر کرنے کی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے مالک کو فائل واپس کر دی گئی ،بتایا گیا کہ کار کی رجسٹریشن سے محکمے کو 50 لاکھ روپے کا ٹیکس ملنے کا تخمینہ تاہم اس کے لیے نہ صرف رولز میں ترامیم کرنی پڑیں گی بلکہ کمپیوٹر سافٹ وئیر کو بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔   اسپورٹس کار ارجمند کے نام پر رجسٹر ہوئی ہے۔   ۔شہری کا تعلق لاہور کے ایک کاروباری خاندان سے ہے اور لیمبرگینی کار ان کے والد نے انہیں سالگرہ پر تحفے میں دی ہے۔شہری نے بتایا کہ اس کار کو پاکستان میں لانے کے لیے میرے والد نے کروڑوں روپے کسٹم بھی بھرا ہے اور میں حیران ہوں کہ ایسی کار کی رجسٹریشن کا پاکستان میں کوئی نظام موجود نہیں۔بتایا گیا ہے کہ شہری کے والد موٹر سائیکل بنانے کی مقامی صنعت سے وابستہ ہیں اور انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق اپنے بیٹے کو سالگرہ پر لیمبرگینی کمپنی کی کار بطور تحفہ دی۔    محکمہ ایکسائز ڈی ایچ اے برانچ موٹر رجسٹریشن کے سربراہ ندیم چوہدری نے بتایا کہ لیمبرگینی کار کی فائل رجسٹریشن کے لیے دس روز قبل ہمارے دفتر میں لائی گئی۔ ہم نے اس کو رجسٹر کرنے کے لیے سسٹم میں اندراج کرنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ ہمارا سسٹم 10 کروڑ مالیت سے زائد کی کار رجسٹر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔   انہوں نے مزید بتایا کہ چونکہ ایکسائز کا تمام آئی ٹی سسٹم پنجاب انفارمیشن بورڈ چلاتا ہے لہٰذاانہیں اس بات سے آگاہ کیا گیا لیکن اب تک سسٹم اپ گریڈ نہیں ہو سکا۔ اس لیے فائل شہری کو واپس کر دی گئی تھی۔محکمہ ایکسائز کے مطابق اس سے پہلے سب سے مہنگی گاڑی 9 کروڑ 80لاکھ کی رجسٹرڈ کی گئی تھی جو کہ جی ٹی مرسیڈیز تھی اور وہ بھی پاکستان کے ایک بڑے کاروباری شخص نے اپنے بیٹے کو تحفے میں دی تھی جس سے ایکسائز نے 35 لاکھ رجسٹریشن فیس وصول کی تھی۔ا


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟