29 اکتوبر 2020
تازہ ترین
 اوپن مارکیٹ سے خریدی گئی غیرملکی کرنسی کو بینک اکاؤنٹس میں جمع کرانے پر پابندی

اوپن مارکیٹ سے خریدی گئی غیرملکی کرنسی کو بینک اکاؤنٹس میں جمع کرانے پر پابندی

حکومت نے لوگوں کو اوپن مارکیٹ سے خریدی گئی غیرملکی کرنسی کو بینک اکاؤنٹس میں جمع کرانے سے روک دیا۔ تاہم   یہ واضح نہیں  کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئے قوانین نے اسٹیٹ بینک کی فارن ایکسچینج مینوول (ایف ای ایم) میں پہلے سے موجود مواد میں نمایاں تبدیلی ہوئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جاری کردہ ایف ای ایم کے چیپٹر 6، جس کے تحت ملک بھر میں تمام نجی غیرملکی کرنسی اکاؤنٹس کھولے جاتے ہیں، اس میں تمام ایف ای-25 فارن کرنسی ڈیپوزٹس کے لیے شرائط بیان کی گئی ہیں۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا کہ ایک مرتبہ یہ اکاؤنٹس کھلنے کے بعد اسے ادھار لی گئی غیرملکی کرنسی، برآمدات کے لیے ادائیگی یا پاکستان میں یا یہاں سے دی گئی خدمات، سیکیورٹی کی رقم جو غیر ملکیوں کو جاری یا فروخت کی گئی ہو، پاکستانی کمپنی کی بیرون ملک آپریشن سے حاصل آمدنی اور ’پاکستان میں کسی بھی مقصد کے لیے کسی مجاز ڈیلر سے خریدی گئی فارن ایکسچینج (غیرملکی زرمبادلہ)‘ سے بھرا نہیں جاسکتا۔ تحریر جاری ہے‎


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟