29 اکتوبر 2020
تازہ ترین
روزانہ ایک سیب کھانے کے فائدے لاتعداد

روزانہ ایک سیب کھانے کے فائدے لاتعداد

کہا جاتا ہے کہ ایک سیب روزانہ کھانے کی عادت ڈاکٹر کو دور رکھتی ہے جس کو طبی سائنس کافی حد تک درست بھی مانتی ہے۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ آخر ایک سیب روزانہ ڈاکٹر کو دور کیسے رکھ سکتا ہے؟     درحقیقت یہ ایک جادوئی پھل ہے جو اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز، فائبر اور دیگر غذائی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے جس کی دنیا بھر میں ساڑھے 7 ہزار سے زائد اقسام دستیاب ہیں۔ یہ پھل صحت کے لیے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ اس کے ساتھ مٹھاس کی خواہش کو بھی پوری کرتا ہے جبکہ پیٹ کو بھرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ تو جانیں کہ صرف ایک سیب کو روزانہ کھانا آپ کو کس حد تک فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ غذائی اجزا سے بھرپور پھل ایک درمیانے حجم کے سیب میں 95 کیلوریز، 25 گرام کاربوہائیڈریٹس، 4 گرام فائبر، وٹامن سی کی روزانہ درکار مقدار کا 14 فیصد حصہ، پوٹاشیم کی روزانہ درکار مقدار کا 6 فیصد حصہ اور وٹامن کے کی روزانہ درکار مقدار کا 5 فیصد حصہ جسم کو ملتا ہے۔ اس کے علاوہ کاپر، میگنیز، وٹامن اے، ای، بی 1، بی 2 اور بی 6 بھی جزوبدن بنتے ہیں۔ سیب پولی فینولز کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں جو صحت کے لیے متعدد فوائد کے حامل مرکبات ہیں۔ سیب کو چھلکوں سمیت کھانا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ فائبر کا 50 فیصد حصہ اور پولی فینولز کی بیشتر مقدار چھلکوں پر موجود ہوتی ہے۔ جسمانی وزن میں کمی کے لیے بھی بہترین سیب فائبر اور پانی سے بھرپور پھل ہے اور دونوں پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرنے کا احساس دلاتے ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو افراد کھانے سے قبل سیب کے ٹکڑے کھاتے ہیں،انہیں پیٹ بھرے رہنے کا احساس دیگر کے مقابلے میں زیادہ دیر تک ہوتا ہے۔ اسی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ کھانے کے آغاز میں سیب کھاتے ہیں، وہ دیگر کے مقابلے میں اوسطاً 200 کم کیلوریز جزوبدن بناتے ہیں۔ زیادہ جسمانی وزن کی حاملہ 50 خواتین پر 10 ہفتوں تک جاری رہنے والی ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن خواتین نے سیب کھانا معمول بنایا، ان میں دیگر کے مقابلے میں اوسطاً ایک کلوگرام جسمانی وزن زیادہ کم ہوا۔ مزید براں سیب میں موجود کچھ قدرتی مرکبات بھی جسمانی وزن میں کمی میں ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ سیب کھانے کی عادت اور امراض قلب جیسے ہارٹ اٹیک اور فالج وغیرہ کے خطرے میں کمی کے دوران تعلق دریافت ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ سیب میں حل ہونے والے فائبر کی موجودگی ہے جو خون میں کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مددگار عنصر ہے۔ اسی طرح پولی فینولز اینٹی آکسائیڈنٹ اثرات کے حامل مرکبات ہیں، خاص طورو پر فلیونوئڈ نامی پولی فینول بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لاسکتا ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے ایک تجزیے میں دریافت کیا گیا تھا کہ غذائی شکل میں فلیونوئڈز کا زیادہ استعمال فالج کا خطرہ 20 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔ فلیونوئڈز بلڈپریشر، نقصان دہ کولیسٹرول اور تکسیدی تناؤ میں کمی لاکر امراض قلب کی روک تھام میں مدد دیتے ہیں۔ ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ایک سیب کھانا کا اثر ان ادویات جیسا ہوتا ہے جو کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے کے لیے کھائی جاتی ہیں، یعنی یہ پھل امراض قلب سے موت کا خطرہ ادویات کی طرح کم کرنے میں موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ متعدد تحقیقی رپورٹس میں اس بات کا اشارہ دیا گیا ہے کہ سیب سے لطف اندوز ہونا ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔ ایک بڑی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ ایک سیب کھانے سے ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ 28 فیصد تک کم کوسہتا ہے، یہاں تک کہ ایک ہفتے میں چند سیب کھانے سے بھی یہی فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ایسا ممکن ہے کہ سیب میں موجود پولی فینولز لبلبے میں موجود بیٹا خلیاات کے ٹشوز کو نقصان پہنچے سے بچاسکیں، یہ بیٹا خلیات جسم کے لیے انسولین بناتے ہیں اور ذیابیطس ٹائپ 2 کے شکار افراد میں ان خلیات کو نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔ معدے میں موجود صحت کے لیے مفید بیکٹریا کی نشوونما سیب میں فائبر کی ایک قسم پیسٹین موجود ہوتی ہے جو پروبائیوٹک کی طرح کام کرتی ہے، یعنی معدے میں موجود بیکٹریا کی غذا ثابت ہوتی ہے۔ چھوٹی آنت اس فائبر کو ہضم نہیں کرپاتی اور یہ فائبر قولون میں پہنچ جاتی ہے، جہاں یہ فائدہ مند بیکٹریا کی نشوونما کو تیز کرتی ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق ممکنہ طور پر یہی وجہ ہے کہ سیب کا استعمال موٹاپے، ذیابیطس ٹائپ 2 اور امراض قلب سے بچانے میں مدد دیتا ہے یسٹ ٹیوب تحقیقی رپورٹس میں سیب میں موجود نباتاتی مرکبات اور کینسر کے خطرے میں کمی کے درمیان تعلق کو ثابت کیا گیا ہے۔ اسی طرح خواتین پر ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ سیبوں کو کھانا کینسر سے موت کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس پھل میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹ اور ورم کش اثرات کینسر سے تحفظ دینے میں ممکنہ کردار ادا کرتے ہیں۔ دمہ سے لڑنے میں مدد دے اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور سیب پھیپھڑوں کو تکسیدی تناؤ سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ 68 ہزار سے زائد خواتین پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو خواتین زیادہ سیب کھاتی ہیں، ان میں دمہ کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ روزانہ ایک بڑا سیب کھانا اس بیماری کا خطرہ 10 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔ سیب کے چھلکوں میں موجود فلیونوئڈ مدافعتی نظام کو ریگولیٹ کرنے اور ورم کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، یہ دونوں ہی دمہ اور الرجی کے ردعمل کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ پھلوں کو کھانا ہڈیوں کی کثافت کو بڑھاتا ہے۔محققین کا ماننا ہے کہ سیب میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس اور ورم کش مرکبات ہڈیوں کی مضبوطی اور کثافت کو بہتر کرتے ہیں۔ کچھ تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا کہ سیب کھانے کی عادت کے ہڈیوں کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو خواتین سیب کھاتی ہیں ان کے جسموں میں کیلشیئم کی کمی دیگر کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ دماغی صحت کے لیے بھی مفید سیب کا جوس عمر بڑھنے سے دماغی طور پر آنے والی تنزلی کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ جانوروں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سیب کے جوس دماغی ٹشوز میں جمع ہونے والے نقصان دہ ری ایکٹیو آکسیجن اسپیسز کی شرح کم ہوتی ہے اور دماغی تنزلی کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ سیب کا جوس ایک دماغی ٹرانسمیٹر acetylcholine کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے جو عمر کے ساتھ تنزلی کا شکار ہوتا ہے، جس کی کمی الزامر امراض کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔ اسی طرح محققین نے چوہوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ جن جانوروں کو چوہے کھلائے گئے، ان کی یادداشت نوجوانی کی عمر جیسی ہوگئی۔ یعنی پھل میں بھی وہی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو سیب کے جوس میں ہوتے ہیں، اور جوس کے مقابلے میں پھل کو کھانا زیادہ بہتر ہوتا ہے، کیونکہ اس سے جسم کو دیگر فوائد بھی ملتے ہیں، جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟