29 اکتوبر 2020
تازہ ترین
کیا کراچی کے ساحل سے متصل جزائر ترقی کے لیے قابلِ عمل ہیں؟

کیا کراچی کے ساحل سے متصل جزائر ترقی کے لیے قابلِ عمل ہیں؟

وفاقی حکومت کی جانب سے حال ہی میں صدارتی آرڈینینس کے ذریعے تحویل میں لیے گئے جڑواں جزائر بنڈل اور بڈو کورنگی کریک کے قریب 10 ہزار ایکڑ سے زائد کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔   یہ جزائر گذشتہ 2 دہائیوں میں دو مرتبہ ریئل اسٹیٹ ڈیولپرز کے حملے سے بچ چکے ہیں، پہلی بار ان پر 2006 اور دوسری بار 2013 میں حملہ کیا گیا تھا، یہ ایک بار پھر اس وقت نظروں میں آئے جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے یکطرفہ طور پر ان کا کنٹرول سندھ حکومت سے حاصل کرلیا، جس کے بعد حکومت سندھ نے وفاق کے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سخت مزاحمت کا عہد کیا۔ واضح رہے کہ جہاں یہ جزائر موجود ہیں وہاں کے ماحول کا جائزہ لینے کے حوالے سے حال ہی میں کوئی تحقیق نہیں کی گئی۔ ورلڈ وائڈ فار نیچر پاکستان (ڈبلیو ڈبلیو ایف - پی) کے 2008 میں کیے جانے والے سروے کے مطابق یہاں مچھلیوں کی 96، پرندوں کی 54 اور سمندری ڈولفن اور کچھووں کی 3 اقسام (اسپیسیز) موجود ہیں، جبکہ 3 ہزار 349 ایکڑ رقبے پر مینگروو پھیلے ہوئے ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟