18 ستمبر 2019
تازہ ترین
سندھ اسمبلی میں  مشرف دور کے پولیس آرڈر کی بحالی کا بل منظور

سندھ اسمبلی میں  مشرف دور کے پولیس آرڈر کی بحالی کا بل منظور

سندھ اسمبلی نے پولیس آرڈر 2002 بحال کرنے کا بل منظور کرلیا جبکہ اپوزیشن احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کرگئی۔اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاولہ کی جانب سے پیش کردہ بل کی منظوری کا عمل شروع ہوا تو اپوزیشن اس نئے قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کرگئی۔ اپوزیشن ارکان نے پولیس آرڈر 2002 بحالی بل کےخلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان میں نعرے لگائے اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے ارکان نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا اور اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نے دھرنا دے دیا جس کے بعد اپوزیشن ارکان اسمبلی سے واک آؤٹ کرگئے۔ حزب اختلاف کی غیر موجودگی میں سندھ حکومت نے بل کو منظور کرالیا۔ پولیس آرڈر 2002 بحالی بل اب توثیق کےلیےگورنر سندھ کوبھیجا جائےگا۔ مکیش کمار نے کہا کہ اپوزیشن سے مشاورت کے بعد بل پیش کیا اس کے باوجود وہ بائیکاٹ کرگئی یہ لوگ اصل میں بھاگنا چاہتے ہیں۔ شہریار مہر نے کہا کہ پولیس ایکٹ غیرقانونی اور غیرآئنی ہے، میں حکومت کو مبارک دیتا ہوں آج ایک آمر کا قانون بحال کیا ہے۔ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ یہ جمہوریت نہیں ہے ڈکٹیٹرشپ ہے، نیب زدہ اسپیکر کو شرم نہیں آتی، اسمبلی قواعد وضوابط کے خلاف چلائی جارہی ہے، اگر غیرت ہوتی تو اسپیکر کا عہدہ چھوڑ کر جاتے۔ پولیس آرڈر 2002 42 صفحات پرمشتمل پولیس آرڈر2002بحالی بل میں 190شقیں شامل ہیں جن کے تحت پولیس کو مصدقہ اطلاع پر بغیر وارنٹ چھاپہ مارنے کا اختیار حاصل ہوگا،  سندھ پولیس میں بھرتی کا طریقہ کار بھی صوبائی حکومت طےکرےگی اور ایڈشنل آئی جیز و ڈی آئی جیز کی تعیناتی کی مجاز ہوگی، ڈی آئی جی و ایس ایس پی سطح کے افسران کا تقرراختیار وزیراعلی کے پاس ہوگا۔ نئے قانون کے تحت صوبائی حکومت آئی جی پولیس کی مشاورت سے ایڈیشنل آئی جیز ڈی آئی جیز کا تقرر کرےگی، ضلعی پولیس افسر بلدیاتی کونسل کےچیئرمین اور ڈپٹی کمشنر سےمشاورت کاپابندہوگا، صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن تحریری وجوہات پر آئی جی کی خدمات وفاق کو واپس کرنے کےلیےسندھ حکومت کوسفارشات دےسکےگا جبکہ اے آیس آئی سے لیکر ڈی ایس پی تک کی اسامیاں پبلک سروس کمیشن کےزریعے پُر کی جائینگی


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟