25 جون 2019
اسلام آباد میں جنگلہ بس سے مسائل حل نہیں ہوں گے،قائم مقام  چیف جسٹس

اسلام آباد میں جنگلہ بس سے مسائل حل نہیں ہوں گے،قائم مقام  چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے تجاوزات کیس میں میئر اسلام آباد اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے چیئرمین کو طلب کرلیا۔سپریم کورٹ میں سنٹورس مال تجاوزات کیس کی سماعت ہوئی تو عدالت نے میئر اسلام آباد اور چیئرمین این ایچ اے کو طلب کر لیا۔ عدالت نے کہا کہ آگاہ کیا جائے اسلام آباد اور ہائی ویز سے تجاوزات کے خاتمہ کیلئے کیا اقدامات کئے، تمام کارروائیوں کی تصاویر پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ سنٹورس سے سروس روڈز واگزار کروا لی ہیں، بلیو ایریا سمیت شہر بھر میں بھرپور آپریشن جاری ہے، اسلام آباد کو جلد تجاوزات سے پاک کر دینگے۔ قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کشمیر ہائی وے اور ایکسپریس وے کا برا حال ہے، بڑی شاہراہوں پر پیدل چلنے والوں کیلئے پیڈسٹرین برج بھی نہیں، اسلام آباد کی سڑکیں کسی صورت بلاک نظر نہ آئیں اور کسی بڑی سڑک پر یوٹرن نہیں ہونا چاہیے، اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کیوں نہیں ہے؟۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ دارالحکومت کی سڑکوں پر لگے ریفلیکٹر بھی خراب ہیں، مجھے گاڑی چلاتے ہوئے چالیس سال ہوچکے ہیں، اسلام آباد میں گاڑی چلانا میرے لیے ممکن نہیں، بھارہ کہو سے مری کی طرف جانا محال ہوُچکا ہے اور ایمبیسی روڈ کی گرین بیلٹ پر بھی قبضہ ہوُچکا ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کیوں نہیں ہے؟، ججز کالونی آنے والوں کو بھی میلوں دور اتر کر پیدل آنا پڑتاہے، اسلام آباد میں تو انڈر گرائونڈ ٹرینیں چلنی چاہیں، لوگوں کو دفاتر سے پیدل گھر جانا پڑتا ہے، دنیا کا کونسا شہر ہے جہاں ٹرانسپورٹ کا نظام نہ ہو، صرف جنگلہ بس بنا دی جو مسائل کا حل نہیں، جنگلہ بس سے مسائل حل نہیں ہوں گے، مجھے نہیں معلوم اتنا خراب نظام اب کون ٹھیک کرے گا۔ کیس کی مزید سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔  


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟