23 اکتوبر 2020
تازہ ترین
 اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گیس میٹرز کا کرایہ 20 سے بڑھا کر 40 روپے کر دیا

 اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گیس میٹرز کا کرایہ 20 سے بڑھا کر 40 روپے کر دیا

 اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گیس میٹرز کا کرایہ 20 سے بڑھا کر 40 روپے کر دیا ۔ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا ، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ گیس میٹرز کا رینٹ 20 سے بڑھا کر 40 روپے کر دیا جائے ، اس کے ساتھ ساتھ صارفین سے گیس انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس کے پرانے واجبات بھی وصول کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ، تاہم گھریلو ، کمرشل ، تندور ، سیمنٹ اور کھاد سیکٹر کو ان فیصلوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا ۔   دوسری طرف وفاقی حکومت کی طرف سے گیس شارٹ فال کم کرنے کے لیے اقدامات شروع کردیے گئے ۔ اس حوالے سے تفصیلات کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی نے وفاقی حکومت کی ہدایت پر گیس شارٹ فال کم کرنے کے لیے آرایل این جی کی فراہمی شروع کردی ، جس کے لیے 100 ایم ایم سی ایف ڈی آر ایل این جی سوئی گیس سسٹم میں شامل کردی گئی ہے ، ایل این جی گیس سسٹم میں شامل ہونے سے لائن پیک کی صورتحال بہترہوئی ، جبکہ ادارے کی طرف سے وفاقی حکومت کی ہدایت پرگیس شارٹ فال کم کرنے کیلئے آرایل این جی فراہم کی جارہی ہے۔       ترجمان ایس ایس سی جی کے مطابق بحرانی حالات کے باوجود کے الیکٹرک کو گیس بحال رکھی گئی ، جس کے تحت کے الیکڑک کو 190 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جارہی ہے ، جس کی وجہ سے گیس شارٹ فال 150 سے کم ہوکر 100 ایم ایم سی ایف ڈی پر آگیا ۔ قبل ازیں سوئی ناردرن گیس کمپنی نے عوام کو خبردار کیا تھا کہ موسم سرما میں صرف کھانا پکانے کے لیے گیس فراہم کی جائے گی ، کیونکہ شدید سردی میں قلت کا سامنا کرپڑسکتا ہے ، تمام تر کاوشوں کے باوجود موسم سرما میں صنعتی شعبے کو کچھ لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑے گا ۔   تفصیلات کے مطابق ایس این ایل جی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ موسم سرما کے دوران گیس کے استعمال میں کئی گنا اضافہ کے باعث ڈیمانڈ اور سپلائی میں فرق بڑھ جاتا ہے ، شدید سردی میں SNGPL کو 500 MMCFD تک کی گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے سردیوں میں گیس صرف کھانا بنانے کے لیے فراہم کی جائے گی ، تاہم گیس کی بڑھتی طلب کے پیش نظر LNG کی درآمد کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے ۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟