22 اکتوبر 2020
تازہ ترین
سینیٹ میں اپوزیشن کی برتری خطرے میں پڑ گئی

سینیٹ میں اپوزیشن کی برتری خطرے میں پڑ گئی

 سینیٹ میں اپوزیشن کی برتری خطرے میں پڑ گئی، مارچ 2021 میں سینیٹ کے 104 میں سے 52 سینیٹرز ریٹائر ہوجائیں گے۔  ذرائع کے مطابق مارچ 2021 میں مجموعی طور پر سینیٹ کے 52 اراکین ریٹائر ہو جائیں گے جس کے باعث اپوزیشن کی اکثریت ختم ہونے کا خدشہ ہے، اپوزیشن اتحاد کے 34 جبکہ حکومتی اتحاد کے 14 سینیٹرز کی مدت پوری ہو جائے گی، سراج الحق اور ستارہ ایاز بھی ریٹائر ہوں گی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے 12 سینیٹرز ریٹائر ہوں گے، سندھ اور پنجاب سے 11،11 جبکہ فاٹا سے 4 اور اسلام آباد سے 2 سینیٹرز ریٹائر ہوں گے۔ ریٹائر ہونے والے سینیٹرز میں نون لیگ کے 17 اور پیپلز پارٹی کے 7 سینیٹرز شامل ہیں، تحریک انصاف کے 7 اور ایم کیو ایم کے 4 سینیٹرز بھی ریٹائر ہو جائیں گے، بلوچستان عوامی پارٹی کے 3 ، جے یو آئی (ف)، نیشنل پارٹی اور پی کے میپ کے 2،2 سینیٹرز ریٹائر ہونگے، جماعت اسلامی، اے این پی اور بی این پی مینگل کا ایک ایک سینیٹر ریٹائر ہوجائے گا۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان سے (ن) لیگ کے آغا شاہ زیب درانی، کلثوم پروین، نیشنل پارٹی کے میر کبیر شاہی اور ڈاکٹر اشوک کمار، بی این پی مینگل کے ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، پی کے میپ کے عثمان کاکڑ اور گل بشریٰ، جے یو آئی ف کے مولانا عبد الغفور حیدری، باپ کے خالد بزنجو منظور احمد، سرفراز بگٹی اور آزاد سینیٹر یوسف بادینی بھی ریٹائر ہوں گے۔سندھ سے پیپلز پارٹی کے رحمان ملک، فاروق نائیک، اسلام الدین شیخ، گیان چند، سلیم مانڈوی والا، سسی پلیجو اور شیری رحمان، ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت، نگہت مرزا، بیرسٹر محمد علی سیف اور میاں عتیق ریٹائر ہوں گے۔  خیبر پختونخوا سے جے یو آئی (ف) کے مولانا عطاء الرحمان، جماعت اسلامی کے سراج الحق اور اے این پی کی ستارہ ایاز، تحریک انصاف کے جان کینتھ ولیم، لیاقت ترکئی، محسن عزیز، شبلی فراز اور ذیشان خانزادہ، نعمان وزیر، ثمینہ سعید، (ن) لیگ کے صلاح الدین ترمزی اور جاوید عباسی جبکہ فاٹا سے اورنگزیب خان، حاجی مومن آفریدی، سجاد طوری اور تاج آفریدی بھی ریٹائر ہو جائیں گے، (ن) لیگ کی راحیلہ مگسی اور سردار یعقوب ناصر بھی سینیٹرز نہیں رہیں گے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟