20 جولائی 2019
تازہ ترین
گھر کی ملکیت کسی اور کےنام رکھنا بے نامی ہے

گھر کی ملکیت کسی اور کےنام رکھنا بے نامی ہے

چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی نے کہا ہے کہ گھر کی ملکیت کسی اور کےنام رکھنا بے نامی ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اثاثے ڈکلیئریشن ایمنسٹی سے زیادہ بڑی اسکیم ہے جب کہ ٹیکس وصولی 5ہزار ارب روپے تک کرنے کا پلان ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ گھر کی ملکیت کسی اور کےنام رکھنا بے نامی ہے،بے نامی قانون2017 میں آیا  جس کا فروری 2019 میں اطلاق ہوا، اس قانون کے تحت بے نامی اثاثےرکھنے پر 5سال قید ہو سکتی ہے۔ شبر زیدی کا کہنا تھا کہ 300 ٹیکس دہندگان پاکستان کا 80فیصد ٹیکس دیتے ہیں جب کہ تنخواہ دارپاکستان کا پانچ سے 6فیصد ٹیکس دیتے ہیں، ہم نے  ٹیکس وصولی 5ہزار ارب روپے تک کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور 4 ہزار100 ارب ٹیکس وصولی متوقع ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟