20 اکتوبر 2020
تازہ ترین
افغانستان سے عجلت میں غیرملکی انخلا غیر دانشمندانہ اقدام ہوگا، وزیراعظم

افغانستان سے عجلت میں غیرملکی انخلا غیر دانشمندانہ اقدام ہوگا، وزیراعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ تمام فریقین، جنہوں نے افغان امن عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کیا، وہ غیر حقیقی ٹائم لائنز کی مخالفت کریں کیونکہ افغانستان سے جلد بازی میں بین الاقوامی (غیرملکی فوجیوں) کا انخلا غیر دانشمندانہ اقدام ہوگا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا کہ ہمیں ان علاقائی خرابیوں سے بھی بچنا چاہیے جو امن میں کی حالت سرمایہ کاری نہیں کرتے ہیں اور افغانستان میں عدم استحکام کو اپنے جغرافیائی سیاسی مقاصد کے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں۔  انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ 'امریکا کی طرح پاکستان کبھی بھی افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز بنتے نہیں دیکھنا چاہتا کیونکہ نائن الیون کے بعد سے اب تک 80 ہزار سے زائد پاکستانی سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری دہشت گردی کے خلاف اپنی جانیں دے چکے ہیں۔ تحریر جاری ہے‎ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 'لیکن پاکستان اب بھی افغانستان میں قائم بیرونی طور پر فعال دہشت گرد گروہوں کے ذریعے حملوں کے نشانے پر ہے'۔ 'واشنگٹن پوسٹ' میں شائع کالم میں وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان میں جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے معاشی، اقتصادی اور معاشرتی مسائل پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جنگ کے دوران سب سے بڑی قیمت پاکستان کے لوگوں نے ادا کی، 40 لاکھ افغان پناہ گزینوں کو رہائش دی، ملک میں اسلحہ اور منشیات پھیلی، اقتصادی شرح متاثر ہوئی اور پاکستان 60 یا 70 کی دہائی والا نہیں رہا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 'اس تجربے نے ہمیں دو اہم سبق سیکھائے پہلا یہ کہ ہم جغرافیہ، ثقافت اور رشتہ داری کے ذریعے افغانستان سے بہت قریب ہیں اور ہمیں احساس ہوا کہ جب تک ہمارے افغان بہن بھائی امن میں نہیں ہوں گے پاکستان کو حقیقی امن نہیں ملے گا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟