20 اکتوبر 2020
تازہ ترین
جنسی زیادتی کے واقعات کیخلاف جلد قانون سازی کرنے کا فیصلہ

جنسی زیادتی کے واقعات کیخلاف جلد قانون سازی کرنے کا فیصلہ

 وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ جنسی زیادتی کے واقعات کیخلاف جلد قانون سازی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، بچوں ، عورتوں اور خواجہ سراؤں کے ساتھ زیادتی واقعات پرمکمل بل لا رہے ہیں، ریپ کے شکار کی نفسیاتی کونسلنگ بھی کی جائے گی،ریپ کے شکارکی شناخت ظاہر کرنے والے کو سخت سزا دی جائے گی۔   انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کابینہ میں معاہدہ ہوگیا ہے کہ جنسی زیادتی کے کیسز پر ایک مکمل بل لا رہے ہیں۔ بچوں ، عورتوں اور خواجہ سراؤں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر جلد قانون سازی کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ریپ سنٹر بنایا جائے اور وکٹم کی نفسیاتی کونسلنگ بھی کی جائے گی۔ کسی کو ریپ کا شکاریا متاثر ہونے والے کی شناخت ظاہر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔       ریپ کے شکار کی شناخت ظاہر کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور این جی او سرچ فار جسٹس کے اشتراک سے اسلام آباد میں چائلڈ پروٹیکشن کے عنوان کے تحت خواتین پارلیمنٹیرینز کیلئے خصوصی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق تربیتی ورکشاپ میں چیئرپرسن سارہ احمد کی دعوت پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔   چیئر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی اولین ترجیح بچوں کے لئے قانون سازی ہے،ان کے وژن کے مطابق بچوں کے حقوق کے تحفظ کو ممکن بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام پارلیمنٹیرینز بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی میں حصہ لے کر اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو این جی او سرچ فار جسٹس سمیت دیگر این جی اوز کے ساتھ مل کر بچوں کے تحفظ کو ممکن بنایا جارہا ہے۔   سارہ احمد نے شرکاء کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے متعلق بریفننگ دی،انہوں نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران چائلڈ پروٹیکشن کے لیے کئے گئے اقدامات اور بچوں پر تشدد اور زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے کی گئی قانون سازی کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟