20 اکتوبر 2020
تازہ ترین
گنے کے کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر پر 3 سال قید کی سزا ہوگی

گنے کے کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر پر 3 سال قید کی سزا ہوگی

شوگر مافیا کو کنٹرول کرنے کے لئےحکوت پنجاب کا تاریخی اقدام۔ شوگر فیکٹریز کنٹرول ترمیمی آرڈیننس 2020 ءجاری کردیا گیا۔ گنے کے کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر، ادائیگی میں کٹوتی پر تین سال قید اور پچاس لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو گی۔ تحریک انصاف حکومت نے 15 سال سے التواکا شکارشوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ میں ترامیم کر دیں۔ پنجاب حکومت نے شوگر فیکٹریز کنٹرول ترمیمی آرڈیننس2020ءجاری کر دیا۔ ترمیمی آرڈیننس کے مطابق، پنجاب شوگر فیکٹریزکنٹرول ایکٹ 1950ء میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔ گنے کے کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر، وزن اور ادائیگی میں غیر قانونی کٹوتی پر3 سال قید اور 50لاکھ روپے جرمانہ کی سزا ہو گی۔ گنے کے واجبات کاشتکار کے اکاؤنٹ میں بھیجے جائیں گے۔ پنجاب شوگر فیکٹریز کنٹرول ترمیمی آرڈیننس2020ءکے مطابق کنڈا جات پر شوگر ملز کے ایجنٹ، مل کی باضابطہ رسید جاری کرنے کے پابند ہوں گے۔ شوگر ملز کی جانب سے کسانوں کو کچی رسید جاری کرنا جرم ہو گا۔ کین کمشنر کو کاشتکاروں کے واجبات کا تعین اور وصولی کا اختیار دے دیا گیا۔ واجبات کی وصولی بذریعہ لینڈ ریونیو ایکٹ کی جا سکے گی۔ کاشتکاروں کے واجبات ادا نہ کرنے پر مل مالک گرفتار اور مل کی قرقی کی جا سکےگی۔ ڈپٹی کمشنرز بطور ایڈیشنل کین کمشنر گرفتاری اور قرقی کے احکامات پر عمل درآمد کے پابند ہوں گے آرڈیننس کے مطابق ،گنے کی کرشنگ تاخیر سے شروع کرنے پر تین سال قید اور یومیہ پچاس لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔ شوگر فیکٹریز ایکٹ کے تحت جرم ناقابل ضمانت اور قابل دست اندازی پولیس بنا دیا گیا ہے۔ مقدمات کی سماعت مجسٹریٹ درجہ اول سے سیکشن 30 کے مجسٹریٹ کو منتقل کردئیے گئے۔ شوگر فیکٹریز ایکٹ میں ترامیم سے گنے کے کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ ہوگا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟