26 اکتوبر 2020
تازہ ترین
جنرل قمر باجوہ سے 40 سال پرانے تعلقات ہیں، زبیر عمر

جنرل قمر باجوہ سے 40 سال پرانے تعلقات ہیں، زبیر عمر

جنرل قمر باجوہ سے 40 سال پرانے تعلقات ہیں، پہلے بھی ملاقاتیں ہوتی رہیں، حالیہ ملاقاتوں میں نواز شریف اور مریم نواز سے متعلق بھی بات ہوئی، رہنما ن لیگ زبیر عمر کی تصدیق۔ تفصیلات کے مطابق رہنما ن لیگ اور سابق گورنر سندھ زبیر عمر کی جانب سے آرمی چیف سے ہوئی ملاقاتوں کے حوالے سے وضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے۔   زبیر عمر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف سے ہوئی ملاقاتیں نواز شریف اور مریم نواز سے متعلق نہیں تھیں، جب ملاقات کیلئے گیا تو جاتے ہی یہ بات واضح کی تھی۔ زبیر عمر کا کہنا ہے کہ جنرل قمر باجوہ سے ان کے دیرینہ تعلقات ہیں، پہلے بھی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ حالیہ ملاقاتوں کے دوران صرف ایک مرتبہ ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے۔   ملاقاتیں لمبی تھیں اس لیے اس دوران نواز شریف اور مریم نواز سے متعلق بھی بات ہوئی۔   زبیر عمر کا کہنا ہے کہ مریم نواز کو ان ملاقاتوں سے متعلق معلوم نہیں تھا، ملاقاتوں کے بعد ہی انہیں آگاہ کیا گیا۔ دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سابق گورنر سندھ زبیر عمر نے قائد ن لیگ نواز شریف اور مریم نواز کے حوالے سے 2 مرتبہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے ملاقات کی۔ پہلی ملاقات اگست کے آخری ہفتے میں جبکہ دوسری ملاقات 7 ستمبر کو ہوئی۔   زبیر عمر اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے درمیان ہوئی ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض بھی شریک تھے۔ ملاقاتوں کے دوران زبیر عمر نے نواز شریف اور مریم نواز کے مقدمات اور سیاسی معاملات پر گفتگو کی۔ اس حوالے سے آرمی چیف نے واضح کیا کہ سیاسی معاملات کا تعلق پارلیمنٹ اور قانونی معاملات کا تعلق پاکستان کی عدلیہ سے ہے۔ آرمی چیف نے رہنما ن لیگ سے کہا کہ سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں طے کیے جائیں، فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھا جائے۔   جبکہ قانونی مسائل کا حل بھی عدالتوں میں ہے۔ واضح رہے کہ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی جانب سے بدھ کے روز جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نواز شریف کی کسی قریبی شخصیت نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی، تاہم اب ترجمان پاک فوج نے ن لیگ کے اہم ترین رہنما زبیر عمر کی جنرل قمر باجوہ سے ہوئی ملاقاتوں کی تصدیق کر دی ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟