26 اکتوبر 2020
تازہ ترین
لاہور لاہور اے      ( تیسری  قسط)   گذشتہ سے پیوستہ

لاہور لاہور اے ( تیسری قسط) گذشتہ سے پیوستہ

شہر میں کبھی گولی والی بوتل بھی ملا کرتی تھی۔ جسے لوگ بڑے شوق سے پیتے تھے۔ بوتل بہت ہی موٹے شیشے کی ہوتی تھی، دکاندار اپنا انگوٹھا ایک خاص انداز میں اس میں ڈال کر گولی کو دباتا تھا اور وہ گولی جس کو بنٹا بھی کہتے تھے، وہ بوتل کے اندر چلا جاتا تھا اور لوگ بوتل کو منہ لگا کر پیا کرتے تھے۔ ہم نے کئی مرتبہ وہ بوتل پی تھی۔ کبھی بھاٹی گیٹ میں میٹھے اور گلابی دودھ والی بوتلیں بھی ملا کرتی تھیں، مجال ہے ان کو پینے کے بعد کبھی کوئی انسان بیمار ہوا ہو۔ لوگوں کی نیت اور خوراک دونوں خالص تھیں اور کئی دکاندار اپنے گاہک کو دعا بھی دیا کرتے تھے۔ اگر یہ شہر اسپین یا اٹلی میں ہوتا تو یقین کریں وہاں کے لوگ اور حکومت اس کو اس کی قدیم روایات کے ساتھ زندہ رکھتے۔ کاش اس شہر کی پرانی روایات اور کلچر کو کوئی دوبارہ زندہ کر دے۔ وہ لوگ، لوگ نہ رہے۔ وہ لاہور، لاہور نہ رہا۔ جاری ہے   


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟