30 ستمبر 2020
تازہ ترین
موٹروے گینگ ریپ جیسے واقعات پر وزیراعظم غائب ہوجاتے ہیں، شہباز شریف

موٹروے گینگ ریپ جیسے واقعات پر وزیراعظم غائب ہوجاتے ہیں، شہباز شریف

قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی تجویز پر معمول کی کارروائی معطل کرکے لاہور-سیالکوٹ موٹروے گینگ ریپ کیس پر بحث کا فیصلہ کیا گیا جہاں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ اس واقعے کے بعد وزیراعظم غائب ہیں اور ایک لفظ تک نہیں کہا۔ اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہونے والے اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف بھی شریک ہیں اور حالیہ بارشوں،ر سیلاب، دہشت گردی کے واقعات اور حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ اسپیکر نے لاہور-سیالکوٹ موٹر وے واقعہ پر بحث کروانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ہہ واقعہ ہمارے ماتھے پر بدنما داغ ہے اور اس پر وقفہ سوالات کے بعد بحث شروع کی جائے گی۔  پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ پیپلزپارٹی بھی یہی چاہتی ہے کہ دیگر کارروائی معطل کر کے لاہور واقعے پر بات کی جائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ایوان کی ہاؤس کمیٹی بنائی جائے کہ موٹروے واقعے پر پولیس کی تفتیش میں تاخیر کیوں ہوئی اور اس پولیس افسر کو طلب کرکے پوچھاجائے کہ اس وقت متنازع بیان کیوں دیا۔ قبل ازیں وقفہ سوالات پر دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کی گئیں اور وزارت آبی وسائل نے تحریری جواب دیا۔ وزارت آبی وسائل نے کہا کہ بھاشا ڈیم پر سابق حکومتوں نے 86 ارب 68 کروڑ روپے خرچ کیے جبکہ موجودہ حکومت نے اب تک 64 ارب روپے خرچ کیے ہیں۔ بیان کے مطابق موجودہ حکومت نے اراضی کے حصول کے لیے 20 ارب اور ڈیم کی تعمیر پر 43 ارب 80کروڑ روپے خرچ کیے اور رواں مالی سال میں ڈیم کی تعمیر کے لیے 16 ارب، اراضی اور آباد کاری کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزارت آبی وسائل نے کہاکہ چیف جسٹس ڈیم فنڈ میں 12 ارب 63 کروڑ روپے جمع ہیں، فنڈ میں سےواپڈا نے آج تک کوئی رقم وصول نہیں کی۔ قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ ڈیم کے لیے 90 فیصد اراضی حاصل کر لی گئی ہے اور تعمیر کا کام 7 اگست 2020 سےشروع ہو چکا ہے۔ وزارت آبی وسائل نے اپنے تحریری جواب میں گزشتہ دس سال کے دوران سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں پر اخراجات کی تفصیلبھی قومی اسمبلی میں پیش کی، جس کے مطابق 2010 سے 2020 تک سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں کے لیے 7ارب 52 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ مزید کہا گیا کہ دس سال کے دوران 5 ارب 58 کروڑر روپے کے فنڈز جاری ہو سکے، جن میں پنجاب میں 2 ارب 7 کروڑ، سندھ میں 1ارب 78 کروڑ روپے، کے پی میں 60 کروڑ 82لاکھ روپے، بلوچستان میں 46 کروڑ 62 لاکھ روپے، گلگت بلتستان میں 11کروڑ 85 لاکھ، سابق فاٹا میں 30 کروڑ 99لاکھ روپے اور آزاد کشمیر میں سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں پر 22 کروڑ 61 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر مذہبی امور نے بھی تحریری جواب جمع کروایا، جس میں کہا گیا کہ حج اسکیم 2020 کے تحت جمع کرائی گئی رقوم پر حکومت نے کوئی سود وصول نہیں کیا، تمام رقوم براہ راست بینکوں میں جمع کرائی گئی تھیں۔  وزارت مذہبی امور نے کہا کہ یہ رقوم بینکوں کی طرف سے شرعی نفع بخش کھاتوں میں رکھی گئی تھیں اور اس کے تحت ان رقوم پر 49 کروڑ 52 لاکھ روپے منافع حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حاصل شدہ رقم پلگرمز ویلفئر فنڈ میں منتقل کر دی جاتی ہے، یہ رقم حجاج کی تربیت، حج مواد کی اشاعت اور حج آگاہی مہم پر خرچ ہوتی یے اور ویکسین و ادویات اور آئی ٹی کے سامان کی خریداری بھی اسی رقم سے ہوتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں ڈائریکٹوریٹ آف حج اور ڈائریکٹوریٹ آف حج جدہ کی آپریشنل لاگت بھی اسی رقم سے پوری ہوتی ہے۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وقفہ سوالات میں کہا کہنہیپاٹائیٹس کے مفت علاج کا سلسلہ ہمارے دور میں پنجاب حکومت نے شروع کیا تھا، پی کے ایل آئی کی چھتری تلے پنجاب کے ہر ضلعے میں ہیپاٹائیٹس کے تدارک کے فلٹر کلینکس قائم کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان فلٹرز کلینکس پر مریضوں کوٹیسٹوں اور ادویات کی فری سہولت میسر تھی لیکن موجودہ حکومت کے دور میں اس منصوبے کو بند کردیا گیا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ لاکھوں لوگ ہیپاٹائیٹس جیسے موذی مرض کے مفت علاج کی سہولت کا فائدہ اٹھا رہے تھے مگر اب ان کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ یہ منصوبہ پنجاب حکومت کا تھا جو اب بند کردیا گیا ہے، پنجاب حکومت سے اس منصوبے کو بند کرنے کی وجوہات اور معلومات لے کر ایوان کو آگاہ کروں گی


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟