30 ستمبر 2020
تازہ ترین
یاسر عرفات نے پاکستان کرکٹ میں اقربا پروری کا الزام عائد کر دیا

یاسر عرفات نے پاکستان کرکٹ میں اقربا پروری کا الزام عائد کر دیا

 پاکستان کے سابق آل راؤنڈر یاسر عرفات نے پاکستان کرکٹ میں اقربا پروری کا الزام عائد کر دیا ۔ گزشتہ روز انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل پر کہا کہ انہیں اپنے دور میں سینئر کرکٹرز کی جانب سے بھی نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ 38 سالہ یاسر عرفات نے 2000ء سے 2012ء کے دوران 3 ٹیسٹ میچز، 11 ون ڈے اور 13 ٹی ٹونٹی میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹیم مینجمنٹ نے اپنے پسندیدہ کرکٹرز کو ان کھلاڑیوں پر فوقیت دی جو زیادہ با صلاحیت اور قومی کرکٹ ٹیم میں کھیلنے کے اہل تھے ۔ یاسر عرفات کا کہنا تھا کہ 2000ء میں جب ان کا ڈیبیو ہوا جب وہ انڈر 19 ورلڈ کپ سری لنکا میں کھیل کر واپس آئے تھے ۔ اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم آسٹریلیا سے کھیل کر آئی تھی اور خراب کارکردگی کی وجہ سے اس میں 5 سے 6 تبدیلیاں کی گئی تھیں۔وسیم اکرم کپتان تھے جب کہ سعید انور کو ہونا چاہئے تھا اس وقت یونس خان اور عمران عباس کا بھی ڈیبیو ہوا تھا لیکن ہم نئے کرکٹرز کے لئے ماحول بہت خراب اور بالکل اجنبی تھا۔ سینئر کرکٹرز کا رویہ بہت خراب تھا کسی قسم کی سپورٹ نہیں تھی سب کچھ خود کرنا پڑا۔                                              


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟