30 ستمبر 2020
تازہ ترین
  قدیم حج شاہرا ہوں پر کنویں، مینار اور تالابوں کے اثارآج بھی موجود

  قدیم حج شاہرا ہوں پر کنویں، مینار اور تالابوں کے اثارآج بھی موجود

  قدیم حج شاہرا ہوں پر کنویں، مینار اور تالابوں کے اثارآج بھی موجود ہیں۔ سعودی اخبار کے مطابق ماضی میں حج شاہراہیں تعمیر کی گئیں اور ان کے اطراف کاروباری مراکز قائم  کئے گئے کنویں، مینار اور تالابوں کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ حج شاہراہیں ایک عرصے تک مختلف اقوام و ممالک کی ثقافتوں اور تجربوں کے تبادلے اور منتقلی کا ذریعہ بنی رہیں۔تاریخ کی کتابوں میں سات بڑی حج شاہراہوں کا ذکر ملتا ہے۔ یہ اسلامی ریاست کے مختلف حصوں سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک بنائی گئی تھیں۔ اس سے پہلے قسط میں نہر زبیدہ کی تاریح کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ مصری حجاج کی سڑک بھی اہم حج شاہراہوں میں سے ہے جوٴنہر الحاج المصریٴ کے نام سے مشہور ہے۔ مصر میں پہلے اسلامی دارالحکومت فسطاط سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک اس کا سلسلہ قائم تھا۔دمشق اور مدینہ منورہ کا فاصلہ ایک ماہ سے زیادہ مدت میں طے ہوتا تھا۔ شامی حج قافلہ بھی محمل کے نام سے آتا تھا۔ جنوبی دمشق سے حج شاہراہ شروع ہوتی تھی جو درجنوں منزلوں سے گزرتے ہوئے مکہ مکرمہ آیا کرتے تھے۔خلفائے راشدین اور خلفائے بنوا میہ نے شامی حج شاہراہ پر بڑی توجہ دی۔ پورے راستے پر مینار بنوائے۔ خلیفہ ولید بن عبدالملک نے اس سڑک پر روشنی کا جگہ جگہ انتظام کیا۔ اسی طرح دمشق اور مکہ کے درمیان کنویں کھدوائے۔ ہشام  بنعبدالملک نے بھی ایسے ہی کام کرائے۔بصری حج شاہراہ قصیم سے بھی گزرتی ہے جہاں میٹھے پانی کے چشمے پائے جاتے ہیں۔  


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟