23 مئی 2019
تازہ ترین
ایران  کی عالمی جوہری معاہدے سے دستبرداری

ایران  کی عالمی جوہری معاہدے سے دستبرداری

 ایران نے عالمی قوتوں سے کیے گئے جوہری معاہدے کے ایک حصے سے دستبرداری کا فیصلہ کرتے ہوئے یورینیم افزودگی کے عمل کی بحالی کی دھمکی دی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ايران نے جوہری توانائی سے متعلق ملکی سرگرميوں کو محدود رکھنے کے ليے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ کیے گئے ،جوہری معاہدے 2015 کی اُس شق سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے جس میں ایران پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے یورینیم افزودگی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ ایران نے جوہری توانائی معاہدے 2015  کے فریقین برطانيہ، چين، فرانس، جرمنی اور يورپی يونين کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرنے کے لیے خطوط ارسال کر دیئے ہیں، ایران نے ان خطوط میں فریق ممالک سے ايرانی بينکنگ اور خام تيل کی تجارت سے متعلق کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے 2 ماہ کی مہلت دی ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے قومی ٹیلی وعن پر اس اہم فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی قوتوں کو دی گئی 60 روز مہلت کے دوران مطالبات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو ایران یورینیم افزودگی کے اپنے پروگرام کو بحال کردے گا اور اب ایران اسے فروخت کرنے کے بجائے اپنے ملک میں ہی محفوظ رکھے گا۔ صدر حسن روحانی نے مزید کہا کہ اگر امریکا کے دبائومیں آکر عالمی جوہری معاہدے کے فریق ممالک ایران سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کرسکتے اور ایران کو معاہدے کے تحت حاصل فوائد نہیں پہنچا سکتے تو ایران بھی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پابند نہیں ہوگا۔ گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کردی تھیں تاہم دیگر فریقین نے معاہدے کی توسیع کردی تھی جس پر امریکا نے ان ممالک پر ایران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کے لیے دبائو بڑھا دیا تھا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟