30 ستمبر 2020
تازہ ترین
 حاملہ خواتین کی اموات میں سے ایک چوتھائی کی موت ہائی بلڈ پریشر سے ہوتی ہے

حاملہ خواتین کی اموات میں سے ایک چوتھائی کی موت ہائی بلڈ پریشر سے ہوتی ہے

آغا خان یونیورسٹی کے محققین کی ایک تحقیق کے مطابق ملک میں حاملہ خواتین کی اموات میں سے ایک چوتھائی کی موت ہائی بلڈ پریشر سے ہوتی ہے۔آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی تحقیق میں ملک میں زچگی کے دوران موت اور بیماری کی ایک اہم وجہ پری ایکلیمپسیا کے بوجھ کو کم کرنے کی طریقوں کی تجویز دی گئی ہے جو دراصل حمل کے دوران ہائی بلڈ پریشر سے منسلک عارضہ ہے۔اس تحقیق کے مطابق ملک میں حاملہ خواتین کی تمام اموات میں سے ایک چوتھائی کی موت کی وجہ ہائی بلڈ پریشر(بلند فشار خون) ہے۔تاہم اس کے باوجود عوام اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والوں میں بلڈ پریشر کی نگرانی کی اہمیت سے متعلق کم آگاہی ہے۔ تحقیق میں شامل آغا خان یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر راحت قریشی کا کہنا ہے کہ سندھی جیسی نمایاں علاقائی زبانوں میں پری ایکلیمپسیا کے لئیے کوئی لفظ موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پیدائش سے متعلق دیگر پیچیدگیوں کے برعکس پری ایکلیمپسیا کی علامات آسانی سے شناخت نہیں کی جاسکتیں جو اس کی جلد تشخیص کے امکانات کو محدود کرتی ہے اور بہت سی حاملہ خواتین اس کی خطرناک پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتی ہیں۔دی لینسیٹ میں شائع ہونے والی تحقیق کمیونٹی- لیول انٹروینشنز فار پری ایکلیمپسیا (سی ایل آئی پی) پاکستان کے مطابق کمیونٹی ہیلتھ ورکرز خواتین میں بیماری کی سنگینی سے نمٹنے، ابتدائی علاج کی فراہمی اور صحت کی سہولت تک نقل و حمل کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔تحقیق کے مطابق مٹیاری اور حیدرآباد میں لیڈی ہیلتھ ورکرز (ایل ایچ ڈبلیوز) نے 3 سال کے عرصے میں 35 ہزار سے زائد خواتین تک رسائی حاصل کی۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟