30 ستمبر 2020
تازہ ترین
دنیا میں پہلی بار بیک وقت پیدا ہونے والے 7 بچے اب کیسے ہیں؟

دنیا میں پہلی بار بیک وقت پیدا ہونے والے 7 بچے اب کیسے ہیں؟

پ کو معلوم ہے کہ ایک وقت میں سب سے زیادہ بچے جنم دینے (جو سب زندہ بھی بچ گئے)کا ریکارڈ کس خاتون کے پاس ہے ؟ اگر نہیں تو جان لیں کہ وہ نادیہ سلیمان نامی ایک امریکی یہودی خاتون ہیں جنھوں نے جنوری 2009 میں 8 بچوں کو بیک وقت جنم دیا جو سب زندہ بھی بچ گئے۔ مگر ان سے پہلے یہ ریکارڈ امریکا کی ہی بوبی میککوفی کے پاس تھا جنہوں نے نومبر 1997 میں 7 بچوں کو جنم دیا اور پہلی بار یہ ایسے 7 بچے تھے جو زندہ بچ گئے اور ایک ساتھ پرورش پاکر اب 22 سال کے ہوچکے ہیں۔ امریکی ریاست آئیووا سے تعلق رکھنے والے کینی اور بوبی میککوفی کے ہاں پہلے ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی اور وہ بس ایک اور بچے کے خواہشمند تھے تاکہ خاندان مکمل ہوسکے، مگر اس کوشش کے نتیجے میں انہیں بہت بڑا سرپرائز ملا۔ بچے کی خواہش کے لیے وہ ڈاکٹر سے فریٹلیٹی ٹریٹمنٹ کروا رہے تھے اور ایک معمول کے چیک اپ کے دوران جب اسکین کیا گیا تو ڈاکٹر اس کا نتیجہ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ درحقیقت الٹرا ساﺅنڈ سے انکشاف ہوا کہ اس جوڑے کے ہاں 7 بچوں کی پیدائش ہورہی ہے، ویسے تو فریٹلیٹی ٹریٹمنٹ کے دوران جڑواں یا 3 بچوں کی پیدائش کافی عام ہے مگر 7 بچے انتہائی غیرمعمولی ثابت ہوئے اور جوڑے کو یہ مشکل فیصلہ کرنا تھا کہ وہ ان کی پیدائش چاہتے ہیں یا بوبی کو موت کے منہ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ بوبی کے مطابق 'میں نے اپنی بیوی کو فون کیا اور الٹرا ساﺅنڈ اسکین کے نتائج کے بارے میں معلوم کیا، تو اس کی آواز عجیب سی ہوگئی اور جو اس نے کہا مجھے سمجھ نہیں آیا، میں نے اسے کہا کہ صاف الفاظ میں بتائے تو اس کا جواب تھا 7، اس لمحے مجھے بس یہ خیال آیا کہ آخر اتنے بچوں کو کیسے کھلائیں گے اور ان کی ضروریات کیسے پوری کریں گے، پھر میں نے کہا کہ نہیں، نہیں، نہیں، نہیں، کیا تم سنجیدہ ہو؟' بوبی کے مطابق ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ کچھ جینین کو ختم کروا دیا جائے تاکہ دیگر بچوں کے بچنے کا امکان پیدا ہوسکے، مگر بوبی نے اس کو مکمل طور پر مسترد کردیا اور تمام بچوں کی پیدائش کا فیصلہ کیا۔ ماہرین کے مطابق 3 بچوں کی پیدائش میں بھی ایک صحت مند بچے کا امکان 50 فیصد ہوتا ہے جبکہ لگ بھگ 50 فیصد کے قریب جڑواں یا اس سے زائد بچوں کی پیدائش کی کوشش اسقاط حمل پر ختم ہوتی ہے۔ تاہم بوبی میککوفی اس حوالے سے خوش قسمت ثابت ہوئیں، ڈاکٹروں کو خدشہ تھا کہ وہ بچ نہیں سکیں گی مگر کچھ بھی غلط نہیں ہوا اور 21 نومبر 2017 کو 4 لڑکوں اور 3 لڑکیوں کو جنم دیا، جن کی پیدائش مقررہ وقت سے 9 ہفتے قبل آپریشن کے ذریعے ہوئی، جبکہ وہ ہسپتال میں 2 ماہ تک رہے۔ بچوں کی گھر آمد کے بعد ماں کو ان کی پرورش کے لیے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہوا کیونکہ ان بچوں کو روزانہ خوراک کی 42 بوتلیں اور 52 ڈائیپرز کی ضرورت پڑتی تھی۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟