09 اگست 2020
چیف جسٹس  جے آئی ٹی رپورٹس میں ردوبدل کا نوٹس لیں، حکومتی اراکین

چیف جسٹس  جے آئی ٹی رپورٹس میں ردوبدل کا نوٹس لیں، حکومتی اراکین

 وفاقی وزیر بحری امور علی حیدر زیدی نے سندھ حکومت کی جانب سے عذیر بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹی رپورٹس میں ردوبدل پر چیف جسٹس آف پاکستان سے سووموٹو نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں رائٹ اور لیفٹ کی سیاست ہوتی ہے جبکہ یہاں رائٹ اور رانگ کی سیاست ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جے آئی ٹی رپورٹس منظر عام پر لانے کےلئے طویل جدوجہد کی ہے، اب سندھ حکومت نے اﷲ اﷲ کرکے یہ رپورٹس پبلک کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزم جے آئی ٹی رپورٹ میں 158 قتل کا خود اعتراف کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے جو جے آئی ٹی رپورٹ ریلیز کی ہے وہ نامکمل ہے ، جے آئی ٹی میں جو انکشاف کئے گئے تھے اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ملزم نے کس کے کہنے پر یہ سب کیا اور اس کا کسے فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بڑی لمبی جدو جہد کے بعد اقتدار میں آئے، عمران خان کی مہربانی سے وزیر بھی بن گئے، ہم ملک بدلنے آئے ہیں، ملک کو صحیح راہ پر لگانے کےلئے ضروری ہے کہ اﷲ کا نظام جو سزا و جزا پر مشتمل ہے، اس پر عمل کیا جائے۔ علی زیدی نے کہا کہ عذیر جان بلوچ نے اپنے بیان حلفی میں یہ اقرار کیا کہ وہ سینیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور فریال تالپور سے ملا اور اپنے خلاف ہیڈ منی ختم کرانے کا کہا جو فریال تالپور اور آصف زرداری کے کہنے پر ختم کر دی گئی۔ علی زیدی نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے آخری صفحہ پر بیان حلفی میں عزیر بلوچ نے کہا کہ مجھے خدشہ ہے ان انکشافات کے بعد مجھے اور میرے گھر والوں کو جان سے مار دیا جائے گا جس کے لیے میں درخواست کر تا ہوں کہ مکمل حفاظت کی جائے کیونکہ مجھے آصف زرداری و دیگر سیاسی لوگ بشمول جن کا ذکر بیان میں ہے ان سے انتقامی کارروائی کا خطرہ ہے۔ علی زیدی کا کہنا تھا کہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی بھی بہت مشکل سے ریلیز کی گئی، جے آئی ٹی میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح اداروں کو تباہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کے ایس پی ڈاکٹر رضوان احمد نے رپورٹ نکالی تو ان کا ٹرانسفر شکارپور کر دیا گیا، انہوں نے وہاں دوسری رپورٹ نکال دی۔ علی زیدی نے کہا کہ ڈاکٹر رضوان احمد نے چنیسر گوٹھ محمود آباد جو کہ میرا حلقہ انتخاب ہے، کے بارے میں اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہاں فرحان غنی نام کا شخص منشیاب فروشوں کی مدد کرتا ہے اور وہ سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی کے بھائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کے بعد ڈاکٹر رضوان احمد کو فارغ کر دیا گیا، ٹرانسفر کر دیا گیا۔ علی زیدی نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹس کےلئے میں نے 2017ءمیں چیف سیکرٹری سندھ کو خط لکھا لیکن جواب ہی نہیں دیا گیا، اس کے بعد دوبارہ خط لکھا لیکن جواب نہیں ملا، اس کے بعد میں نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن فائل کر دی، اکتوبر 2017ءسے یہ کیس چلتا رہا، آخری کار 28 جنوری 2020ءمیں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے میرے حق میں فیصلہ آگیا تاہم سندھ حکومت نے میرے بارے میں اعتراض کیا کہ اس معاملے میں میرا تو کوئی بند ہ نہیں مرا تو میں یہ رپورٹ کیوں مانگ رہا ہوں۔ علی زیدی نے کہا کہ میرے شہر کی عوام نے عمران خان کے نام پر مجھے ووٹ دیا تو میں نے سوچا کہ بات اب ایسے ختم نہیں ہوگی میں نے اسمبلی میں اس پر بات کی ، انہوں نے کہا کہ جو لوگ دوسری طرف بیٹھ کر بجٹ پر تقریریں کررہے ہیں ان کے بارے میں تو جے آئی ٹی میں لکھا ہے وہ لوگوں کو قتل کرارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی میں چھ لوگ تھے جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ میں چار کے دستخط ہیں، سندھ حکومت کے ماتحت جو لوگ اس ٹیم کا حصہ تھے ان لوگوں نے دستخط نہیں کئے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں بڑے انکشافات تھے، وفاقی اداروں اور سندھ کی صوبائی حکومت کے جو آفیسران تحقیقاتی ٹیم میں شامل تھے ان کے درمیان ڈیڈ لاک ہوگیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی جس پر چار لوگوں کے دستخط ہیں اس میں دوستوں کے نام لکھے ہیں جبکہ دوسری رپورٹ میں دوستوں کے نام نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں کہا جارہا ہے کہ تحریک استحقاق لائی جائے گی اور 62،63کے حوالے سے کورٹ میں جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ جو مرضی کریں ، مجھے کسی بات کی فکر نہیں ۔ علی زیدی نے کہا کہ آج کابینہ اجلاس سے قبل میں نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے اور انہوں نے مجھے مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں بطور وفاقی وزیر چیف جسٹس آف پاکستان سے ہاتھ جوڑ کے اپیل کرتا ہوں کہ 184.3کے تحت وہ اس معاملے کا سووموٹو نوٹس لیں، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ مجھ سے بھی جے آئی ٹی رپورٹ مانگے اور جے آئی ٹی کو بھی بلائے، میں اپنے طور پر سپریم کورٹ میں پٹیشن جمع کرا دوں گا۔ علی زیدی نے کہا کہ جے آئی ٹی میں جن لوگوں کا نام ہے وہ قتل کراتے ہیں، قبضوں، بھتہ خوری، جواءکے اڈوں، اغواءبرائے تاوان میں ملوث ہیں وہ عوامی ٹیکس کے پیسوں پر پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں، میری چیف جسٹس صاحب سے گزارش ہے کہ وہ نوٹس لیں۔ انہوں نے چیف جسٹس سے اپیل کی کہ کراچی میں جوقتل و غارت ہوئی اس پر نوٹس لیں، سب لوگوں کو بلائیں، جے آئی ٹی منگوائیں کہ جے آئی ٹی سے نام کیسے غائب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کے جو بھی نتائج ہوں گے وہ اس کا سامنا کرنے کےلئے تیار ہیں۔  


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟