03 جون 2020
تازہ ترین
 مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال اور پاکستان

مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال اور پاکستان

مشرق وسطیٰ کی صورتحال اگرچہ کئی عشروں سے بے یقینی کا شکار ہے تاہم دو روز پہلے عراقی مظاہرین کی طرف سے امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد حالات کی نزاکت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ گزشتہ روز امریکی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے 9ساتھیوں سمیت جاں بحق ہونے سے حالات کی سنگینی خوفناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی طرف سے جنرل قاسم سلیمانی کو صدارتی حکم پر نشانہ بنانے کی تصدیق کے بعد ایران کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایران کے رہبر آیت اللہ خامنائی، صدر حسن روحانی، وزیر خارجہ جواد ظریف اور سپریم کونسل نے اعلان کیا ہے کہ جنرل سلیمانی پر حملے کے ذمہ داروں سے سخت انتقام لیا جائے گا۔ عراق کی طرف سے بھی امریکی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عراقی سالمیت، سلامتی و خودمختاری پر حملہ قرار دیا گیا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی اس نئی صورتحال نے تشویش کی شدید لہر پیدا کر دی ہے۔  باوجود اس امر کہ امریکی کانگرس کی سپیکر نینسی پلوسی، صدارتی امیدوار وار برنی سینڈر، جو بائیڈن اور الزبتھ وارن سمیت متعدد سیاستدان عراق میں جنرل سلیمانی کو نشانہ بنانے پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ نینسی پلوسی نے تو کھلے الفاظ میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے سے پہلے کانگرس سے کوئی مشورہ نہیں کیا اس کے باوجود دنیا کے امن پسند و غیر جانبدار حلقوں نے امریکی کارروائی کو خطے میں نئی جارحیت کا نکتہ آغاز قرار دیا ہے۔ روس اور چین نے بھی امریکا کے اس حملے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ دونوں عالمی طاقتوں نے جارحیت کے استعمال کو ہر لحاظ سے ناقابل قبول اور خطرناک قرار دیتے ہوئے عالمی معاملات و تعلقات کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر نظر رکھنے والے تذویراتی و سیاسی مبصرین کی بڑی تعداد جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کو نا صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ زمینی حقائق بھی یہی ہیں کہ اس سے پہلے یمن کے معاملے پر حالات قابو سے باہر ہیں۔ قطر اور عرب ملکوں کے درمیان مخاصمت پر قابو نہیں پایا جا سکا جبکہ اسرائیلی سرگرمیاں، شام کی بدامنی اور عراق میں جاری کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ خوفناک حالات میں گھرا ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طرف سے عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان ہونے والے ایٹمی معاہدے کو ختم کرنے کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی مسلسل صورتحال کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان حقائق کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں جارحانہ مہم جوئی کا ایک نیا اور خطرناک دروازہ کھول ڈالا ہے۔ ایران کی اعلیٰ قیادت اور عراقی حکومت جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے جاں بحق ہونے پر جو ردعمل دے رہی ہیں، نہیں کہا جا سکتا وہ محض زبانی جمع خرچ ہے۔ ایران اس حملے کے جواب میں براہ راست اور بالواسطہ طور ضرور ردعمل دے گا۔ یہ ردعمل مشرق وسطیٰ کی حد تک امریکی اور عالمی سطح پر پوری دنیا کے لیے پریشان کن ہو گا۔ جنرل قاسم سلیمان ویسے بھی ایران کی طاقت ور اور مو¿ثر ترین شخصیت تھے، مشرق وسطیٰ میں برسر پیکار جنگجو گروہوں میں بھی ان کو خاص مقام و مرتبہ حاصل تھا۔ اس لیے تہران سے دمشق اور بغداد سے یروشلم تک جنرل سلیمانی پر امریکی حملے کے اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی صورت احوال کا ایک اور اہم ترین پہلو یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال ایک طرف عالمی اقتصادیات کو متاثر کرے گی جبکہ دوسری طرف جنوب مغربی ایشیا اور وسط ایشیا کے ممالک پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ مغرب میں ایران کے ساتھ طویل بری اور بحری سرحد کی وجہ سے پاکستان پر تو اس کشیدہ صورتحال کے براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔ مشرق میں بھارت اور مغرب میں افغان حکومت کی وجہ سے پہلے سے موجودہ سرحدی مسائل کے ساتھ ایران سرحد پر بھی معمول سے زیادہ محتاط، چوکنا اور متحرک رہنا ہو گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ اس میں دو رائے بھی نہیں کہ امریکی صدر کے جارحانہ و مہم جُو فیصلے نے مشرق وسطیٰ اور دنیا کے امن کو بے یقینی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کو معمول سے زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ امریکا کی حالیہ کارروائی نے پاکستان کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جن سے نمٹنے کے کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر گہری مشاورت اور بروقت فیصلوں کی ضرورت ہے۔ اصولی طور پر مشرق وسطیٰ میں بھڑکتی بدامنی کی آگ پر امریکی حملے نے تیل کا کام کیا ہے، پاکستان کے اس خطے میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، ترکی اور ایران سے گہرے تعلقات استوار ہیں۔ ایران کی حد تک تو معاملات کی حساسیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس کا پاکستان سے طویل سرحدی تعلق بھی ہے۔ اسی طرح امریکا کے ساتھ بھی افغان امن عمل کے حوالے سے پاکستانی سفارتی مشاورت کا اہم ترین شراکت دار ہے۔ ان حالات میں ضروری ہو گا کہ اسلام آباد میں موجود پالیسی ساز اور ملک کی فیصلہ ساز قوتیں حالات کو دیکھتے ہوئے ایسی ترجیحات کا تعین کریں جن کی مدد سے ملکی و قومی مفادات پر کوئی آنچ نہ آنے پائے۔  


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟