13 اکتوبر 2019
تازہ ترین
وزیراعظم عمران خان سے ملاقات، ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش

وزیراعظم عمران خان سے ملاقات، ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کردی۔ وزیراعظم عمران خان وائٹ ہائوس پہنچے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا، دونوں رہنمائوں نے مصافحہ کیا اور اجلاس کیلئے اندر چلے گئے۔ پہلے مرحلے میں وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت میں ثالثی کی پیشکش بھی کی۔ امریکی صدر نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا تھا کہ امریکا مسئلہ کشمیر کے حل میں معاونت کرے، مجھے ثالث بننے میں خوشی ہوگی۔ انہوں نے عمران خان سے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میں کوئی مدد کرسکتا ہوں تو مجھے آگاہ کریں۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکا پاک بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے بھی مصالحت کرسکتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پاکستان کی جو امداد بند کر دی تھی وہ بھی بحال ہو سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی امداد اس لیے بند کی تھی کہ وہ امریکا کی مدد نہیں کر رہا تھا، یہ بات عمران خان کی حکومت بننے سے پہلے کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں امریکا کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کر رہا ہے، افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ مل کر افغان جنگ سے باہر نکلنے کی راہ تلاش کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان کے پاس وہ پاور ہے جو دیگر ممالک کے پاس نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ پاکستان امریکا کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے، پاکستان افغان عمل آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگ بہت اچھے ہیں، پاکستان میں میرے کافی دوست ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین وزیراعظم ہیں۔ عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کا خواہشمند تھا، پاکستان کیلئے امریکا بہت اہمیت رکھتا ہے، روس کے خلاف افغان جنگ میں پاکستان فرنٹ اسٹیٹ تھا۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی، افغان تنازع کا حل صرف طالبان سے امن معاہدہ ہے۔ امید ہے ہم آنے والے دنوں میں طالبان پر مذاکرات جاری رکھنے پر زور دینے کے قابل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں افغان مسئلے کے حل کیلئے امن معاہدے کے زیادہ قریب ہیں۔ صحافی کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے پر بھی بات ہوگی۔ عمران خان کی امریکی صدر سے ملاقات کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نیا پاکستان کا ویږن لے کر امریکا آئے ہیں، عمران خان پاک امریکا تعلقات کا نیا دور شروع کریں گے، ہم خطے میں امن اور خوشحالی کا بیانیہ لے کر امریکا آئے ہیں۔ خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان امریکی صدر کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورے پر امریکا میں موجود ہیں جہاں انہوں نے گزشتہ روز پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کیا جب کہ اس سے قبل وزیراعظم کی تاجروں اور سرمایہ کاروں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے عمران خان کے دورہ وائٹ ہائوس کو تعلقات بہتر بنانے کا موقع قرار دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کا دورہ پائیدار شراکت داری اور تعاون کو مستحکم بنانے کا موقع ہے، امریکا پاکستان کو یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہے کہ تعلقات کی بہتری کے لیے دروازے کھلے ہیں۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے پاکستان ہائوس میں ملاقات کی۔ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور سینیٹر لنزے گراہم نے باہمی تعلقات اور علاقائی صورتحال پر گفتگو کی اور وزیراعظم عمران خان نے پاک امریکا تعلقات کی بہتری کیلئے سینیٹر لنزے گراہم کی کوششوں کو سراہا۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی سینیٹر کو ترقی اور معاشی ترجیحات سے بھی آگاہ کیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا سے وسیع بنیادوں پر تعلقات چاہتا ہے جو دونوں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور تعلیم کے شعبوں میں بھرپور تعاون چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کی پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی اور پاکستان امریکا کے تعاون سے افغانستان کے مسئلے کا سیاسی حل چاہتا ہے۔ سینیٹر لنزے گراہم کا کہنا تھا کہ پاک امریکا اعلی سطح پر رابطے دونوں ملکوں کے فائدے میں ہیں، افغانستان میں امن اور مفاہمت کیلئے پاکستان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کامیاب انسداد دہشت گردی آپریشن کے باعث صورتحال بہتر ہوسکی۔ سینیٹر لنزے گراہم ری پبلکن پارٹی اور امریکی سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے رکن ہیں اور خطے میں امن و سلامتی کیلئے پاک امریکا تعلقات کے سرگرم حامی ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟