05 دسمبر 2019
تازہ ترین
نئے پاکستان کے نام پر کٹھ پتلیوں کی آمریت قائم ہے، بلاول بھٹو

نئے پاکستان کے نام پر کٹھ پتلیوں کی آمریت قائم ہے، بلاول بھٹو

چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ پاکستان کی عوام کے جمہوری، معاشی و انسانی حقوق پر حملے ہو رہے ہیں، نئے پاکستان کے نام پر کٹھ پتلیوں کی آمریت قائم ہے اور اسکا مقابلہ کرنے کیلئے عوام کو جدوجہد کرنا ہو گی۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی صاف و شفاف انتخابات نہیں چاہتے، اس لیے یہ انتخابات سے بھاگ رہے ہیں اور دوسرے امیدواروں کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ یہ کھلی حقیقت ہے کہ گھوٹکی کے ضمنی انتخابات میں امیدواروں پر دباؤ بھی ڈالا جارہا ہے اور سازشیں بھی کی جا رہی ہیں لیکن پیپلز پارٹی ان سازشیوں کا مقابلہ کرکے ان کو ناکام کرے گی۔ بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کےامیدوار کے کیس کا فیصلہ 16 جولائی کو سنایا جائے گا جبکہ ضمنی انتخاب 18جولائی کو ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے مخالفین کو الیکشن نہیں سلیکشن پسند ہے۔ الیکشن سے بھاگنے کیلئے ہر کسی قسم کے ہتھکنڈے اور دباؤ ڈالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے سکھر میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں مہنگائی، ٹیکسزکا طوفان ہے۔ پی ٹی ایم ایف بجٹ میں عوام کے لیے تکلیف، امیروں کے لیے ریلیف ہے۔ عوام دشمن بجٹ میں غریب کے لیے کچھ نہیں۔ عمران کا ہر وعدہ جھوٹا اورہرنعرہ دھوکہ نکلا۔ وزیراعظم نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا، پوچھنا چاہتا ہوں کیا انہوں نے ایک بھی نوکری دی۔ چیئر مین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پچاس لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا، کیا آپ کیلئے ایک گھر بنایا ہے؟ یہ لوگ گھر بنانے کے بجائے غریبوں کی جھونپڑیوں، چھوٹے چھوٹے گھروں کو گرا رہے ہیں۔ اس سے قبل بلاول بھٹو نے آئی بی اے سکھر یونی ورسٹی کے بلاک تھری کا افتتاح کیا، آئی بی اے یونیورسٹی میں ان کے ہمراہ آصفہ بھٹو زرداری بھی تھیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سینئر رہنما خورشید شاہ، سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، ناصر شاہ اور مرتضی وہاب بھی ہمراہ تھے۔ بلاول کو آئی بی اے یونیورسٹی کی جدید لیبارٹری کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ دوسری طرف این اے 205 گھوٹکی میں ضمنی انتخاب کیلئے پیپلزپارٹی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کو خط لکھ دیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سخت سکروٹنی کے بعد پی پی امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے۔  


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟