18 ستمبر 2019
تازہ ترین
پاکستانی ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کی پہلی سالگرہ پر یادگاری ٹکٹ جاری

پاکستانی ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کی پہلی سالگرہ پر یادگاری ٹکٹ جاری

پاکستان کے محمکہ ڈاک نے وطنِ عزیز کی جانب سے خلا میں بھیجے گئے پہلے ریموٹ سینسنگ اور ٹیکنالوجی کی آزمائش کیلئے تیارکردہ مصنوعی سیارچے کے ایک سال پورے ہونے پر یادگاری ٹکٹ جاری کیا ہے۔  ان میں سے پہلے سیٹلائٹ کا نام  پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ ون  جبکہ دوسرے کا نام  پاکستان ٹیکنالوجی ایولیوایشن سیٹلائٹ اے ون رکھا گیا ہے۔ یہ دونوں مصنوعی سیارچے 9 جولائی 2018 کو مدار میں بھیجے گئے تھے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، پی آر ایس ایس ون کا وزن 12 سو کلوگرام ہے اور یہ 640 کلومیٹر کی بلندی پر کام کرے گا۔ اس سے پاکستان کی ارضی نقشہ نویسی، زراعت کی درجہ بندی اور جائزے، شہری اور دیہی منصوبہ بندی، ماحول کی نگرانی، قدرتی آفات میں امدادی کارروائیوں کی انتظام کاری اور سماجی و اقتصادی ترقی کےلیے پانی کے وسائل کے انتظام کے شعبوں میں تصویری ضروریات پوری ہوں گی۔ واضح رہے کہ ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کو سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ ریجن کی نگرانی کےلیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ دوسری جانب پاک ٹیس ون اے پاکستان کے بالائی خلائی و فضائی تحقیقی کمیشن کے انجینئروں نے تیار کیا ہے۔ اس سیٹلائٹ کے ذریعے کئی طرح کے تجربات اور پاکستانی سیٹلائٹس کی صلاحیت کی آزمائش مقصود ہے۔ یہ زمین کی تصویر کشی کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ پاکستان نے انتہائی کامیابی سے یہ پروجیکٹ مکمل کیا ہے جس کے ذریعے پاکستانی ماہرین نے مصنوعی سیارچہ سازی کے میدان میں بھی اپنی مہارت کا لوہا منوایا ہے۔ اس کامیابی کے ایک سال پورے ہونے پر محکمہ ڈاک نے 20 روپے قیمت کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے جس پر دونوں سیٹلائٹس کو زمینی پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟