23 جولائی 2019
تازہ ترین
الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری ،حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک برقرار

الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری ،حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک برقرار

 سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعیناتی کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے۔ پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعیناتی کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ حکومت اور اپوزیشن میں ممبران کے ناموں پراتفاق نہ ہو سکا اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا۔ اجلاس کے بعد پارلیمانی کمیٹی کی چیئرپرسن شیریں مزاری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب کمیٹی میں وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی جانب سے نام آجاتے ہیں تو پھر انہیں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اپوزیشن کی فرمائش پر ہم نے ان کے تجویز کردہ ایک نام کی تبدیلی کو تسلیم کیا۔ شیریں مزاری نے کہا کہ کسی بھی رکن کی تعیناتی کے لیے 2 تہائی ارکان کا متفق ہونا ضروری ہے، آج ووٹنگ میں اپوزیشن کے ممبران کے حق میں 6 ووٹ تھے اور میرے ووٹ کو ملا کر حکومت کے بھی 6 ووٹ تھے، اپوزیشن نے بطور چیئرپرسن میرے ووٹ کو تسلیم نہیں کیا، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے، اب پارلیمانی کمیٹی کا کام ختم ہوگیا ہے، کمیٹی میں ڈیڈلاک پر وزیراعظم کو آگاہ کریں گے۔ اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ الیکشن کمیشن ممبران تعیناتی پر کمیٹی کا اتفاق نہ ہو سکا، پارلیمنٹ سے بڑا فورم کوئی نہیں کیونکہ یہ 20 کروڑ عوام کی نمائندگی کرتی ہے، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے بعد الیکشن کمیشن سب سے بڑا ادارہ ہے جو ملک میں جمہوریت کے قیام میں اہم کردار ادا کرتا ہے، الیکشن کمیشن میں وہ لوگ جائیں جن کو حکومت اور اپوزیشن تسلیم کرے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ کمیٹی میں ملک کے لیے بہتر فیصلوں کی توقع ہوتی ہے، الیکشن کمیشن ممبران تعیناتی پر کمیٹی کا اتفاق نہ ہو سکا، حکومت کی طرف سے الیکشن کمیشن ممبران کے نام دیئے گئے، کمیٹی میں نہیں آئے۔ ہمیں حکومت کی طرف سے اپوزیشن لیڈر کو بھجوایا گیا خط ملا ، جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے نام بھجوائے گئے، اپوزیشن کا موقف تھا کہ ان ناموں پر غور کیا جائے جو پہلے بھجوائے گے، حکومت کی طرف سے دئیے گئے ناموں کو بھی ہم نے لسٹ میں شامل کیا جس کا مقصد ممبران کی تعیناتی پر اتفاق کرنا تھا۔ بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے رکن کے لیے ڈاکٹر صلاح الدین مینگل ،محمود رضا خان اور راجا عامرعباس جبکہ ممبر سندھ کے لیے محمد عظیم قریشی، جسٹس ریٹائرڈ عبدالرسول میمن اور جسٹس (ر) نور الحق قریشی شامل تھے۔ حکومتی اراکین نے اس خط اور اس میں موجود ناموں کو ماننے سے انکار کر دیا۔ رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت ہر مسئلے اور ادارے میں الجھن پیدا کر رہی ہے، نام بھجوانا وزیراعظم کا حق ہے، ،شاہ محمود قریشی اپنی غلطی تسلیم کریں انھوں نے نام خود بھجوائے، شاہ محمود قریشی غلطی تسلیم کر لیں تو ہم نام واپس لے لیں گے،شاہ محمود قریشی کہہ دیں کہ جرم میرا تھا تو اپوزیشن پیچھے ہٹ جائے گی۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟