21 اپریل 2019
تازہ ترین
یہ تاثر درست نہیں کہ ٹیم سیاست کا شکار ہے، مانی

یہ تاثر درست نہیں کہ ٹیم سیاست کا شکار ہے، مانی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ٹیم سیاست کا شکار ہے۔ قومی ٹیم میں سلیکشن کے معاملات پر کپتان، ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹرز میں مشاورت ہوتی رہتی ہے اور تینوں میں کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی ٹیم میں کوئی لابنگ یا گروپنگ ہے۔ رائل پام کنٹرک اینڈ گالف کلب میں بریک فاسٹ ود جنگ سے خطاب کرتے ہوئے احسان مانی نے کہا کہ تینوں فارمیٹس کے لئے سرفراز احمد کو کپتان بنانے میں کوئی ہرج نہیں، ورلڈ کپ تک سرفراز احمد کو قیادت سونپی گئی ہے اور ورلڈ کپ کے بعد ان سے مشورہ کریں گے کہ وہ خود کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹیم کے لئے لیڈر بنانے کی ضرورت ہے، ورک لوڈ کی وجہ سے سرفراز احمد کو آرام کی ضرورت تھی، پابندی کے بعد سرفراز احمد کو کچھ آرام مل گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم اچھے کھیلنے کے بعد جنوبی افریقہ میں ہاری ہے، ہم نے کھلاڑیوں سے یہی کہا ہے کہ ہار سے سیکھنے کی کوشش کریں۔ قومی ٹیم کے سلیکشن پر کپتان سرفراز احمد کے کردار پر انہوں نے کہا کہ میں نے براہ راست سرفراز احمد سے پوچھا جس پر انہوں نے کہا کہ مکی آرتھر اور انضمام مجھ سے سلیکشن پر مشورہ کرتے رہتے ہیں، ہر سلیکشن میں سرفراز احمد سے بھی مشورہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کی سیریز میں روٹیشن پالیسی کے تحت سینئر کھلاڑیوں کو آرام دیں گے تاکہ ان کا ورک لوڈ کم ہو، ہمیں اپنے کرکٹرز میں لیڈرز تیار کرنے کی ضرورت ہے، کھلاڑیوں کو اپنے اندر بھی لیڈر شپ کوالٹی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستانی ٹیم میں کسی قسم کی کوئی سیاست نہیں ہے، پوری ٹیم سرفراز احمد کے پیچھے کھڑی ہے اور کوئی کھلاڑی کپتان کو گرانے کے لئے سازش یا لابنگ میں ملوث نہیں ہے اور یہ تاثر درست نہیں کہ ٹیم سیاست کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے میں چیئرمین بنا ہوں ہم میرٹ کو اہمیت دے رہے ہیں، مجھے اس سے قبل بھی تین چار بار پاکستان کرکٹ بورڈ کی چیئرمین شپ کی پیشکش ہوئی تھی میں نے ہر بار یہ کہا کہ یہ عہدہ اسی وقت قبول کروں گا جب میرے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہوگی اور اب تک عمران خان نے میرے کام میں کوئی مداخلت نہیں کی ہے اور نہ ہی کبھی انہوں نے پوچھا کہ میں کیا کررہا ہوں۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو پروفیشنل بنانا چاہتا ہوں یہی وجہ ہے کہ میں پروفیشنل لوگ بورڈ میں لارہا ہوں، پی سی بی افسران میں کوالٹی کے لوگ رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو پروفیشنل لوگوں کے ساتھ مضبوط بنا رہا ہوں، کوشش کریں گے کہ ہماری گورنس مثالی ہو لیکن کوئی تبدیلی راتوں رات نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن پر ہماری ٹالرنس زیرو ہے، اینٹی کرپشن یونٹ کو پی سی بی سے الگ کررہے ہیں، شرجیل خان کی پابندی ستمبر میں ختم ہورہی ہے جس کے بعد انہیں ری ہیب پراسس میں جانا ہوگا، شرجیل ری ہیب کے بعد ڈومیسٹک کرکٹ کھیلیں اگر ان کی پاکستانی ٹیم میں جگہ بنتی ہے تو انہیں ٹیم میں شامل کیا جاسکتا ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟