14 نومبر 2018
تازہ ترین
یوٹیوب کی شدت پسند مواد پھیلانے کی وجہ

یو ٹیوب پر گزشتہ دنوں کئی سنجیدہ اعتراضات اٹھائے گئے اور اب تازہ خبر یہ آئی ہے کہ اس مشہور ویڈیو ویب سائٹ پر شدت پسندی اور متنازع معاملات کو ہوا دینے والے چینلز پر دنیا بھر کی ایسی کمپنیوں کے اشتہارات چل رہے ہیں جو عالمی سطح پر مقبول ہیں۔ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، اخبارات، صارفین کو سہولیات فراہم کرنے والی فرمز یہاں تک کہ حکومتی ایجنسیوں کے اشتہارات بھی ایسی ویڈیوز کے درمیان ظاہر ہورہے ہیں، جو بچوں سے بد فعالی، سفید فام نسل پرستی، نازی فکر، سازشی نظریات، نفرت انگیز سوچ اور شمالی کوریا کے پروپیگنڈے کو پروان چڑھا رہی ہیں۔ اشتہارات دینے والے اداروں میں نامی گرامی کمپنیاں شامل ہیں جن میں ایڈیڈاس، ایمیزون، سسکو، فیس بک، ہارشے، موزیلا، ہلٹن، لنکڈ ان، اور دیگر مشہور فرمز اور ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں متنازع اور شدت پسندی کو فروغ دینے والے ان چینلز پر پانچ امریکی حکومتی تنظیموں کے اشتہار بھی دکھائے جارہے ہیں اور وہ ان تمام معاملات سے بالکل بے خبر ہیں۔ یوٹیوب کے اس قدم سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں کہ آیا وہ برانڈز کو ان کے معیارات کے تحت درست چینلز پر دکھانے کی پابند ہیں یا پھر یہ کسی خود کار نظام کے تحت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض کمپنیوں نے یوٹیوب پر اپنے اشتہارات روک لئے تھے لیکن اکثریت نے کچھ عرصے بعد دوبارہ اپنے اشتہارات دکھانے شروع کر دیئے ہیں۔ اس کی وجہ نوجوان نسل کی اس ویب سائٹ پر موجودگی ہے۔ یوٹیوب کے مطابق اس کے ایک ارب یوزر ہیں اور روزانہ اس پلیٹ فارم پر ایک ارب گھنٹے کی ویڈیو دیکھی جاتی ہے۔ اس پس منظر میں یوٹیوب کے ترجمان نے بتایا کہ ہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اہم تبدیلیاں لا رہے ہیں جس میں یوٹیوب کے ذریعے رقم کمانے کی پالیسیوں کو مزید سخت کیا جارہا ہے، اس کے کنٹرول اور شفافیت پر کام کیا جارہا ہے جب بھی ہمیں کسی متنازع ویڈیو کے ساتھ اشتہارات کی خبر ملتی ہے ہم فوری طور پر اسے ہٹا دیتے ہیں۔ دوسری جانب ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس نے تین ماہ کے دوران ضوابط کی خلاف ورزی پر مبنی مواد والی 80 لاکھ سے زائد ویڈیوز کو تلف کیا ہے ۔یو ٹیوب نے یہ اعدادوشمار اپن ٴانفورسمنٹ رپورٹ میں جاری کئے ہیں ۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اکتوبر سے دسمبر 2017 کے دوران 83 لاکھ ویڈیوز اپنی ویب سائٹ سے ہٹائیں۔ رپورٹ کے مطابق جنسی مواد پر مبنی ویڈیوز کو 91 لاکھ جبکہ نفرت انگیز مواد پر مبنی ویڈیوز کی شکایت 47 لاکھ افراد نے کی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ کے ضابطہ کار کی خلاف ورزی پر مبنی مواد زیادہ تر شکایات انڈیا، امریکہ اور برازیل سے آئیں۔ یوٹیوب کا کہنا ہے کہ ضابطہ کار کی نگرانی کے نظام نے 67 لاکھ ویڈیوز کی نشاہدہی کی جسے بعد میں مختلف معائنہ کاروں کو بھیجنے کے بعد تلف کیا گیا۔  کمپنی نے بی بی سی کو بتایا کہ ضائع کی گئی ویڈیوز کے فنگر پرنٹ محفوظ ہیں تاکہ اگر یہ ویڈیوز دوبارہ اپ لوڈ کی جائیں تو ان پتہ لگایا جا سکے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟