17 نومبر 2018
تازہ ترین
 یوریا کی بوری 50 روپے مہنگی

امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی سے کھاد کے کارخانوں نے یوریا کی قیمت میں 50 روپے فی بوری اضافہ کر دیا ہے ۔ رواں سال یوریا کی قیمت میں یہ تیسرا اضافہ ہے۔ یوں مجموعی طور پر یوریا کی قیمت 15 فیصد یعنی 200 روپے اضافے سے 1571 روپے فی بوری ہوگئی ہے۔ کھاد ڈیلرز کا کہنا ہے کہ یوریا کی قیمت میں اتنی جلدی 200 روپے فی بوری اضافے کی وجہ روپے کی قدر میں کمی کے ساتھ سپلائی کی مشکلات بھی ہیں۔ قلت کے باعث یوریا کی قیمت میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ گزشتہ 6 سال میں ماہ جون میں یوریا کھاد کے ذخائر ساڑھے4 لاکھ ٹن رہے ہیں لیکن اگست 2015 کے بعد سے توقع کی جارہی تھی کہ یوریا کے ذخائر  انوینٹری  میں بڑی کمی ہوگی اور جون 2018 میں کچھ ایسا ہی ہوا ہے جس کے باعث قیمتوں پر دبائو بڑھ گیا ہے۔ ڈیلرز کا مزید کہنا ہے کہ قیمت میں اضافے کے باوجود مارکیٹ میں یوریا عالمی قیمت کی نسبت 29 فیصد کم قیمت پر مل رہی ہے۔ 30 جون 2018 تک ملک میں یوریا کی قیمتیں 1460 سے 1471 روپے فی بوری کے درمیان رہی ہیں۔ جون کے بعد خریف کی فصل کے سبب ڈ ی اے پی کھاد کے مقابلے میں یوریا کھاد کو برتری حاصل ہوگئی ہے۔ مئی میں یوریا کی قیمت میں 90 تا 100 روپے فی بوری اضافہ ہوا تھا۔ کھاد کے ڈیلرز نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں بھی 50 روپے فی بوری اضافہ ہوا ہے۔ سال 2018کے آغاز سے عالمی مارکیٹ میں ڈی اے پی کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ ہوا تھا اور کم وبیش اسی عرصے میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 10 فیصد کمی ہوئی تھی جس کے باعث مقامی سطح پر ڈی اے پی کی قیمت میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟